ایران اور امریکا مذاکرات سے قبل اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت، بس اڈے بند اور اضافی نفری طلب
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ حکام نے شہر میں بس اڈے بند کرنے، ہیوی ٹریفک کی آمد محدود کرنے اور اضافی پولیس نفری تعینات کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں ٹرانسپورٹ بندش
راولپنڈی اور اسلام آباد کی ٹرانسپورٹ یونین کے مطابق ایک اجلاس میں انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ فیض آباد اور منڈی موڑ پر موجود بس اڈے رات 11 بجے سے تاحکم ثانی بند کر دیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق ان اڈوں کی بندش 26 اپریل تک برقرار رہنے کا امکان ہے، تاہم حتمی فیصلہ سیکیورٹی صورتحال کے مطابق کیا جائے گا۔
ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی
اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق 18 اپریل سے شہر میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد ممکنہ سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر نقل و حرکت کو محدود کرنا بتایا جا رہا ہے۔
اضافی پولیس نفری کی تعیناتی
وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے دوسرے صوبوں سے بھی پولیس نفری طلب کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق پنجاب سے تقریباً 3000 پولیس اہلکار پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔
مزید نفری کی تعیناتی بھی متوقع ہے تاکہ اہم مقامات اور حساس علاقوں کی نگرانی سخت کی جا سکے۔
ممکنہ ایران امریکا مذاکرات کا پس منظر
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریوں کے باعث یہ سیکیورٹی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم سرکاری سطح پر مذاکرات کے حتمی شیڈول کی تصدیق نہیں کی گئی۔
شہر میں غیر معمولی سیکیورٹی صورتحال
تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کے سیکیورٹی اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وفاقی دارالحکومت میں کسی اہم سفارتی سرگرمی یا اعلیٰ سطحی اجلاس کا امکان موجود ہے، جس کے باعث ٹریفک اور عوامی نقل و حرکت محدود کی جا رہی ہے۔