وزیر خزانہ کی آئی ایف اے ڈی صدر سے ملاقات، زرعی اصلاحات پر تعاون بڑھانے پر اتفاق

وزیر خزانہ کی آئی ایف اے ڈی صدر سے ملاقات کی نمایاں تصویر

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ (IFAD) کے صدر الوارو لاریو سے اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان میں زرعی اصلاحات، چھوٹے کسانوں کی مالی سہولت اور زرعی ویلیو چین کو مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت IFAD کا سب سے بڑا بنیادی قرض لینے والا ملک ہے اور ادارے کے عالمی پورٹ فولیو میں کسی بھی ایک ملک کے مقابلے میں پاکستان میں سب سے زیادہ زرعی منصوبے جاری ہیں۔

زراعت قومی ترجیح قرار

سینیٹر محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ زراعت پاکستان کی قومی ترجیح ہے، تاہم ملک ابھی تک پیداوار، کارکردگی اور ویلیو چین کی مکمل استعداد سے فائدہ نہیں اٹھا سکا۔

انہوں نے وزیراعظم کی زرعی اصلاحات پر خصوصی توجہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ نئی قیادت کو آگے لایا جا رہا ہے، نوجوان گریجویٹس کو جدید زرعی تربیت کے لیے بیرون ملک بھیجا جا رہا ہے اور اہم شعبوں میں مرحلہ وار ڈی ریگولیشن کی جا رہی ہے۔

چینی اور گندم کے شعبے میں اصلاحات

وزیر خزانہ کے مطابق چینی کے شعبے میں مکمل ڈی ریگولیشن کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ گندم کے شعبے میں بھی اصلاحات جاری ہیں اور وفاقی حکومت بتدریج خریداری کے عمل سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔

انہوں نے چھوٹے کسانوں کے لیے مالی سہولیات بڑھانے، فصل کے بعد ہونے والے نقصانات کم کرنے اور ذخیرہ کرنے کی جدید سہولیات بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری

ملاقات میں دونوں فریقین نے IFAD کے بدلتے کاروباری ماڈل کو سراہا، جس میں روایتی سرکاری قرضوں کے ساتھ نجی شعبے کی شراکت داری کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر ایشیائی ترقیاتی بینک اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کو شامل کر کے منصوبوں کے اثرات بڑھانے اور وزیراعظم کی زرعی ٹاسک فورس کے ساتھ زمینی سطح پر رابطہ مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں