چین نے دوربینوں کا ڈیٹا یکجا کرنے والا AI سسٹم متعارف کروادیا
یوتھ ویژن نیوز : (ٹیک ذرائع) کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کی سمت میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں چینی محققین کی ایک ٹیم نے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ایک جدید ترین ماڈل ‘SpecCLIP‘ تیار کر لیا ہے۔ یہ سسٹم مختلف عالمی خلائی دوربینوں سے حاصل ہونے والے ستاروں کے اسپیکٹرل ڈیٹا (Spectral Data) کی تشریح اور انہیں ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔
بدھ کے روز عالمی جریدوں میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، اس ٹیکنالوجی نے فلکیاتی ڈیٹا کے وسیع ذخائر کو پروسیس کرنے میں اے آئی کی طاقت کو ایک نئے درجے پر پہنچا دیا ہے، جس سے کہکشاؤں کی ابتدا اور ارتقا کو سمجھنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو جائے گا۔
اے آئی سے 2000 سافٹ ویئر انجینئرز برطرف – ملازمتوں کا بحران
ستاروں سے خارج ہونے والا اسپیکٹرا (Spectra) دراصل ان کا ڈی این اے ہوتا ہے، جس میں ستارے کا درجہ حرارت، کیمیائی ساخت، اور سطحی کششِ ثقل جیسی اہم معلومات پوشیدہ ہوتی ہیں۔ ان اسپیکٹرا کے گہرے تجزیے کے ذریعے ماہرینِ فلکیات ہماری کہکشاں ‘ملکی وے‘ (Milky Way) کی اربوں سال پرانی تاریخ کا سراغ لگا سکتے ہیں۔
تاہم، اب تک فلکیات کی دنیا کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا تھا؛ مختلف بین الاقوامی منصوبے جیسے چین کی ‘لیموسٹ’ (LAMOST) ٹیلی اسکوپ اور یورپ کا ‘گایا’ (Gaia) سیٹلائٹ، اپنا ڈیٹا مختلف ریزولوشن اور طولِ موج (Wavelengths) میں ریکارڈ کرتے ہیں۔ یہ فرق بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک ہی کہانی مختلف لہجوں یا زبانوں میں سنائی جا رہی ہو، جس کی وجہ سے ڈیٹا کو ملا کر ایک جامع نتیجہ نکالنا انتہائی مشکل عمل تھا۔
اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے چینی اکیڈمی آف سائنسز (CAS) اور نیشنل آسٹرونومیکل آبزرویٹریز کے ماہرین نے فلکیات میں ‘لارج لینگویج ماڈلز’ (LLMs) سے ملتے جلتے تصورات متعارف کرائے ہیں۔ SpecCLIP ماڈل ان مختلف ‘لہجوں’ کو ایک عالمگیر زبان میں تبدیل کر دیتا ہے، جس سے مختلف دوربینوں کا ڈیٹا آپس میں ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اے آئی سسٹم نہ صرف وقت کی بچت کرے گا بلکہ انسانی غلطی کے امکانات کو ختم کر کے فلکیاتی تحقیق میں ایک نئے انقلاب کی بنیاد رکھے گا۔ "یوتھ ویژن” کی رپورٹ کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں دیگر خلائی مشنز کے لیے بھی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگی۔