اے آئی سے 2000 سافٹ ویئر انجینئرز برطرف – ملازمتوں کا بحران

اے آئی سے نوکریاں ختم ہونے لگیں، سافٹ ویئر انجینئرز کی برطرفی کی خبر

یوتھ ویژن نیوز : (ٹیک ذرائع) آسٹریلیا کی معروف لاجسٹکس سافٹ ویئر کمپنی وائز ٹیک گلوبل (WiseTech Global) نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ دو سال کے دوران اپنے تقریباً 2 ہزار ملازمین کو فارغ کرے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سافٹ ویئر اور اندرونی نظام میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے انضمام کے بعد کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی روایتی ذمہ داریاں خودکار نظام سنبھالنے لگے ہیں۔ یہ پیش رفت عالمی سطح پر اس بحث کو مزید تیز کر رہی ہے کہ اے آئی ترقی اور منافع کے نئے مواقع تو پیدا کر رہی ہے، مگر اسی کے ساتھ ملازمتوں کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں بھی لا رہی ہے۔

سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کا بدلتا ڈھانچہ

کمپنی کے مطابق یہ کمی مجموعی عملے کا تقریباً 29 فیصد بنتی ہے، جبکہ وائز ٹیک کے دنیا بھر میں 7 ہزار سے زائد ملازمین موجود ہیں۔ وائز ٹیک نے واضح کیا کہ اسٹاف میں یہ کٹوتی بنیادی طور پر پروڈکٹ ڈیولپمنٹ، کسٹمر سروس اور دیگر متعلقہ شعبوں کو متاثر کرے گی۔ یعنی وہ ٹیمیں زیادہ دباؤ میں آ سکتی ہیں جو پروڈکٹ کی بہتری، کسٹمر سپورٹ اور روزمرہ آپریشنل کاموں میں براہِ راست کردار ادا کرتی ہیں۔

وائز ٹیک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زوبن اپو کے مطابق سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ نے کئی دہائیوں میں اپنی سب سے بڑی تبدیلی دیکھی ہے، اور اب روایتی کوڈنگ یا انسان کے خود کوڈ لکھنے کا دور ختم ہونے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس بیان کو ٹیک انڈسٹری کے بدلتے ہوئے رجحان کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں کمپنیوں کی کوشش ہے کہ اے آئی کے ذریعے رفتار تیز کی جائے، لاگت کم ہو، اور نتائج زیادہ مؤثر انداز میں حاصل کیے جائیں۔ تاہم ملازمین اور آئی ٹی پروفیشنلز کیلئے سوال یہ ہے کہ اس تبدیلی میں نئی ملازمتیں کتنی تیزی سے پیدا ہوں گی اور کن مہارتوں کی ضرورت بڑھے گی۔

یہ اقدام آسٹریلیا میں اے آئی سے جڑے بڑے پیمانے پر عملے میں کٹوتی کے واقعات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کے امریکی ذیلی ادارے ای ٹو اوپن (E2open) میں بھی 50 فیصد تک ملازمین کی کمی متوقع ہے۔ یہ یونٹ اگست 2025 میں 2.1 بلین امریکی ڈالر میں خریدا گیا تھا۔ یعنی اے آئی کے ساتھ ساتھ کمپنی کی تنظیمِ نو (restructuring) اور کاروباری حکمت عملی میں تبدیلی کے عناصر بھی اس فیصلے سے جڑے دکھائی دیتے ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی اعلان کے ساتھ کمپنی کے مالی نتائج میں بہتری کی خبر بھی سامنے آئی۔ وائز ٹیک نے رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں 114.5 ملین امریکی ڈالر کا خالص منافع حاصل کیا، جو مارکیٹ کے اندازے سے 6 فیصد زیادہ بتایا گیا۔ اس کے بعد کمپنی کے حصص کی قیمت میں 10 فیصد تک اضافہ بھی رپورٹ ہوا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال سرمایہ کاروں کے اس رجحان کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ لاگت میں کمی، آٹومیشن اور اے آئی انضمام کو کاروباری “کارکردگی” کے طور پر دیکھتے ہیں، چاہے اس کے نتیجے میں ملازمتوں میں کمی ہی کیوں نہ ہو۔

تاہم کمپنی کی شیئرز پوزیشن کے حوالے سے ایک اور پہلو بھی قابلِ ذکر ہے۔ رپورٹ کے مطابق وائز ٹیک کے شیئرز اب بھی نومبر 2024 میں اپنی بلند ترین سطح سے 68 فیصد نیچے ہیں، جس کی وجہ سابق سی ای او رچرڈ وائٹ سے متعلق اسکینڈلز اور ادائیگیوں کے الزامات کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی بتائی گئی۔ یوں یہ اعلان محض “اے آئی اپ گریڈ” نہیں بلکہ کمپنی کی ساکھ، منڈی کے اعتماد اور مستقبل کی سمت سے بھی جڑا دکھائی دیتا ہے۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں متعدد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی اور آٹومیشن کے باعث عملے میں کمی کر رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق صرف گزشتہ ماہ ایمیزون نے بھی 16 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں سافٹ ویئر انجینئرنگ اور آئی ٹی نوکریوں کی نوعیت مکمل طور پر ختم ہونے کے بجائے زیادہ امکان یہ ہے کہ وہ تبدیل ہوں گی ۔

جہاں کوڈ لکھنے کے ساتھ ساتھ اے آئی ٹولز کی مدد سے ڈیزائن، ریویو، سیکیورٹی، کوالٹی، اور پراڈکٹ سوچ پر زیادہ زور ہوگا۔ تاہم اس تبدیلی کے دوران شارٹ ٹرم میں ملازمتوں کے دباؤ، نئی مہارتوں کی ضرورت اور کمپنیوں کی ری اسٹرکچرنگ جیسے چیلنجز بڑھ سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں