اُڑان پاکستان: ای پاکستان وژن کے تحت ڈیجیٹل معیشت کی طرف اہم قدم

اُڑان پاکستان کے تحت کیش لیس اکانومی اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کا منصوبہ

یوتھ ویژن نیوز : ( عفان گوہر نمائدہ خصؤصی برائے ٹیک انفارمیشن سے) شزا فاطمہ کے مطابق اُڑان پاکستان ای پاکستان وژن کا حصہ ہے، حکومت کیش لیس اکانومی، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ، آئی ٹی سرمایہ کاری اور تعلیمی اداروں میں اے آئی کلاسز پر کام کر رہی ہے۔

اسلام آباد: وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ “اُڑان پاکستان” دراصل ای-پاکستان وژن کا ایک اہم حصہ ہے، جس کے ذریعے پاکستان کو مرحلہ وار مکمل طور پر ڈیجیٹل معیشت کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے۔ پاکستان فورم 2026 کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیش لیس اکانومی وزیراعظم شہباز شریف کا بنیادی وژن ہے اور حکومت تیزی سے ڈیجیٹل پاکستان کی منزل کی طرف گامزن ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کیلئے حکومتی اقدامات میں گزشتہ برس “کیش لیس رمضان بازار” کا افتتاح ایک اہم قدم ثابت ہوا، جس کا مقصد عوامی سطح پر جدید ادائیگی نظام کو عام کرنا اور روزمرہ لین دین میں شفافیت اور سہولت پیدا کرنا تھا۔ شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی میں بے پناہ آسانیاں پیدا کی ہیں اور موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کے بغیر ترقی کا تصور ممکن نہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی پالیسیوں کا محور یہ ہے کہ معیشت کو ڈیجیٹل بنیادوں پر مضبوط کیا جائے، تاکہ کاروبار، خدمات اور حکومتی نظام میں رفتار، شفافیت اور رسائی بہتر ہو سکے۔

اُڑان- پاکستان کو ای-پاکستان وژن کا اہم حصہ قرار دیا گیا

انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نے 10 لاکھ بچوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کا عزم کیا ہے، جبکہ آئی ٹی سیکٹر میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا اور آئی ٹی معیشت کے ذریعے روزگار اور برآمدات کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق ملک بھر کے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی کلاسز کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، تاکہ نئی نسل کو جدید تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے اور عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کے ساتھ پاکستان کی مسابقت بڑھے۔

ماہرین کے مطابق کیش لیس اکانومی اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا فروغ نہ صرف صارفین کیلئے سہولت پیدا کرتا ہے بلکہ معیشت میں دستاویزی نظام کو مضبوط کرنے، کاروباری اعتماد بڑھانے اور مالی لین دین میں شفافیت لانے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں اے آئی کلاسز کا آغاز اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حکومت انسانی وسائل کی تیاری کو ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے کے ساتھ جوڑنا چاہتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ بنیادی انفراسٹرکچر، انٹرنیٹ رسائی، تربیت یافتہ اساتذہ اور نصابی معیار جیسے پہلوؤں پر مسلسل توجہ بھی ضروری ہوگی تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں