پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک غزہ امن بورڈ میں شامل، فلسطینی عوام کے حقوق اور امن کے لیے کردار ادا کریں گے: احسن اقبال

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال غزہ امن بورڈ میں پاکستان کے کردار پر اظہار خیال کر رہے ہیں

یوتھ ویژن نیوز : (واصب ابراہیم سے) وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کو غزہ امن بورڈ میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حقوق اور امن کے لیے کردار ادا کرنے کا موقع ملا ہے۔

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت8 اسلامی ممالک کو غزہ امن بورڈ کا حصہ بننے کا موقع ملا ہے تاکہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ اور خطے میں امن کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکیں، جبکہ پاکستان کا اسرائیل کے حوالے سے مؤقف آج بھی وہی ہے جو 1967ء میں تھا۔

قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیلی قیادت کے ہاتھ نہتے اور مظلوم فلسطینیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور پاکستان فلسطینی عوام پر ہونے والے مظالم کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 28 مئی 1998ء کو عالمی دباؤ کے باوجود ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کا عملی ثبوت دیا، اور آج بھی ملکی دفاع اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان سمیت عالم اسلام کے آٹھ ممالک نے غزہ میں جاری قتل و غارت کو روکنے کے لیے مشترکہ سفارتی قدم اٹھایا، جس کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی اور فلسطینی عوام نے اس اقدام کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان غزہ امن بورڈ کا حصہ نہ بنتا تو یہی آوازیں پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار قرار دے رہی ہوتیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ غزہ امن بورڈ میں شمولیت پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کا مظہر ہے۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن، کویت اور مراکش جیسے برادر اسلامی ممالک بھی اس فورم کا حصہ ہیں، جو اس اقدام کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد فلسطینی عوام کو کچھ حد تک پُرامن ماحول میسر آیا ہے جو اجتماعی اسلامی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ احسن اقبال نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ حکومت کوئی ایسا قدم اٹھا رہی ہے جو اسلامی اقدار کے منافی ہو، اور کہا کہ شادی کی کم از کم عمر سے متعلق قانون کئی دیگر اسلامی ممالک میں بھی نافذ ہے، اس بنیاد پر کسی ملک کے اسلامی تشخص پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا ہر کارکن اسلام، آئین اور قومی مفاد کا محافظ ہے اور فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیرمتزلزل حمایت برقرار رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں