قسط چہارم: والیانِ بہاولپور کی لاہور کے ساتھ علمی و مالی معاونت

قسط چہارم: والیانِ بہاولپور کی لاہور کے ساتھ علمی و مالی معاونت
تحریر و تبصرہ : ڈاکٹر ذوالفقارعلی رحمانی

یوتھ ویژن نیوز : دوستو! یونیورسٹی آف دی پنجاب لاہور کی تاریخ جب اپنے اولین اور تاباں ابواب رقم کرتی ہے تو اس کے ورق پروفیسر جے ایف بروس جیسے صاحبِ فضل و بصیرت مؤرخ کی نگاہِ دقیق اور قلمِ محقق کے مرہونِ منت دکھائی دیتے ہیں۔ سن 1933ء میں شعبۂ تاریخ کے معزز استاد کی حیثیت سے پروفیسر بروس نے اس عظیم مادرِ علمی کی کہنہ سال روایات، فکری ارتقا اور تعلیمی جدو جہد کو ایسے سلیقے سے قلم بند کیا کہ ان کی تصنیف آج بھی تاریخِ جامعہ کا لازوال حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ ان کا یہ کارنامہ نہ صرف تحقیق کی دنیا میں ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی رہنمائی اور فخر کا سرچشمہ ہے۔ پروفیسر بروس اپنی کتاب کے مختلف مقامات پر ریاستِ بہاولپور کے والیان کی فیاضی، علم دوستی اور سخاوت کا نہایت احترام اور تکریم سے تذکرہ کرتے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں : ریاستِ بہاولپور کے لاہور اور پنجاب پر تاریخی احسانات:قسط اول کا آغاز

صفحہ 55 پر وہ خاص طور پر اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ بہاولپور کے حکم رانوں نے نہ صرف اس جامعہ کی سرپرستی کی بلکہ اپنی بلند ظرفی اور علمی خدمت کے سبب پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میں ایک مضبوط اور روشن باب کا اضافہ بھی کیا۔ ان کا یہ بیان اس بات کی شہادت ہے کہ علم کی دنیا میں ایسے محسن ہمیشہ وقار اور عزت کے قابل ٹھہرتے ہیں۔ "نواب بہاولپور کے عطیات میں کل رقم 25,000 روپے تھی، جو 1874ء میں بہاولپور سینیٹ ہال کی تعمیر کے لیے مختص کی گئی۔ یہ جامعہ کی ملکیت اور استعمال میں آنے والی اولین عمارت تھی۔ نواب صاحب نے دراصل یہ رقم (15,000 روپے) لاہور میونسپل کمیٹی کو ایک خاص ٹرسٹ کے ذریعے انارکلی میں ایک پینے کے فوارے کی تعمیر کے لیے عطیہ کی تھی، تاکہ شاہی خاندان کے ڈیوک آف ایڈنبرگ کے پنجاب کے دورے کی یاد قائم رہے۔ یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا، چنانچہ نواب کی رضامندی سے یہ رقم پنجاب یونیورسٹی کالج کی سینیٹ کو ایک سینیٹ ہال تعمیر کرنے کے مقصد کے لیے منتقل کر دی گئی۔

مزید یہ بھی پڑھیں : قسط دوم :کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کی خطیر مالی امداد: سابق ریاستِ بہاولپور کی لاہور پر ناقابلِ فراموش مہربانیاں

بعد ازاں نواب صاحب نے اسی مقصد کے لیے مزید 10,000 روپے کا عطیہ دیا۔ یہ کل رقم 25,000 روپے، سود سمیت، پرانے سینیٹ ہال کی تعمیر کی کل لاگت کا تقریباً پانچ چھٹاں حصہ پورا کرتی تھی، جس میں اب جامعہ کے بیشتر دفاتر واقع ہیں۔ ” دوستو! تاریخ کے اوراق میں کبھی کبھار ایسے لمحے جھلملاتے ہیں جو صدیوں کے فاصلوں کو مٹا کر ہمیں ماضی کی عظمت سے ہم کلام کر دیتے ہیں۔ سن 1874ء میں جب پنجاب یونیورسٹی اپنے قیام کے ابتدائی خواب دیکھ رہی تھی، اُس وقت 25,000 برطانوی انڈین روپے—جو اُس زمانے میں خالص چاندی کے سکے تھے—جامعہ کی تعمیر کے لیے بطور عطیہ پیش کیے گئے۔ اگر اس رقم کی قدر و قیمت کو موجودہ دور یعنی 151 برس بعد (1874ء تا 2025ء) کے حساب سے پرکھا جائے تو کمپیوٹر سے نکالا جانے والا تخمینہ اپنی حیرت میں چشم کشا معلوم ہوتا ہے؛ گویا وہ چند ہزار روپے نہیں، بلکہ آج کے پیمانے سے کروڑوں اور لاکھوں کی وہ روشن خطیر رقم تھی جس نے ایک عظیم علمی سفر کی بنیاد رکھی۔ یہاں وہ بات نہایت اہمیت کی حامل ہے جسے پروفیسر جے ایف بروس نے بڑے احترام سے اپنی تاریخ میں محفوظ کیا ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ یہی وہ رقم تھی جس سے سینٹ ہال تعمیر ہوا—وہ پہلی عمارت جسے جامعہ نے اپنی ملکیت میں دیکھا، وہ اولین سایہ جس کے نیچے علمی چراغ روشن ہوئے، اور وہ بنیادی اینٹ جس پر اس مادرِ علمی کی شان و شوکت کی عمارت کھڑی ہوئی۔ یہی سینٹ ہال بعد ازاں مرکز بنا، اور اس کے اطراف میں علم و تحقیق کی بستیاں آباد ہوتی گئیں، یہاں تک کہ آج کی شاندار اور وسیع و عریض پنجاب یونیورسٹی ارتقائی سفر کے بعد ہمارے سامنے ایک کامل اور عظیم ادارے کی صورت میں کھڑی ہے۔ اگر اس روایت کو درست مانا جائے—اور پروفیسر بروس جیسے مؤرخ کی شہادت کے بعد اسے غلط کہنا مشکل ہے—تو پھر اس عظیم درسگاہ کی ابتدائی بنیاد میں ریاستِ بہاولپور اور اس وقت کے والئی ریاست کا نام ایک درخشاں ستارے کی طرح رقم ہے۔ انہوں نے نہ صرف مالی معاونت کی، بلکہ اس جامعہ کی پہلی اینٹ رکھ کر علم کے ایسے سفر کا آغاز کیا جو آج بھی پورے خطے کی دانش گاہوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اس کتاب کے صفحہ 70 پر پروفیسر بروس پنجاب کے راجے مہاراجوں کے عطیہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہوئے کہتے ہیں ۔

"راجا مانڈی نے 1,000 روپے سالانہ کا عطیہ دیا، جبکہ نواب بہاولپور، جنہوں نے سینیٹ ہال کی تعمیر سمیت دیگر امداد فراہم کی تھی، نے مزید معاونت کا وعدہ کیا۔ ” یہ فقرہ پروفیسر بروس کا سابق ریاست بہاولپور کے اس وقت کے نواب آف بہاولپور کو ایک خراج تحسین ہے۔ پروفیسر جے ایف بروس اپنی شہرۂ آفاق تصنیف کے صفحات 82 اور 83 پر پنجاب یونیورسٹی کے پہلے جلسۂ اسناد—سن 1882ء کی اُس تاریخی اور پرشکوہ تقریب—کا نقشہ اس نزاکت اور سلیقے سے کھینچتے ہیں کہ قاری خود کو اُس زمانے کی فضا میں سانس لیتا محسوس کرتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس اولین Convocation کی عظمت اُس وقت دوبالا ہو گئی جب سابق ریاست بہاولپور کے فرماں روا، نواب صادق محمد خان چہارم بنفسِ نفیس تشریف لائے۔ ان کی آمد محض ایک شاہی شرکت نہ تھی، بلکہ علم دوستی، سرپرستی اور اس مادرِ علمی کے ساتھ ریاست بہاولپور کے دیرینہ تعلق کی جیتی جاگتی علامت تھی۔ یہ محفل صرف اسناد کی تقسیم کا اجتماع نہ تھا، بلکہ ایک تہنیتی باب، ایک اعترافِ خدمت، اور ریاست بہاولپور کے علمی احسانات کو سلامِ عقیدت تھا۔ وہ رقمطراز ہیں "پنجاب یونیورسٹی کا پہلا جلسہ تقسیم اسناد (کانووکیشن) 18 نومبر 1882ء کو منعقد ہوا۔ اس عظیم دن کی دیدہ زیب روداد انجمن پنجاب کے جریدے میں شائع ہوئی، جس سے ہم یہاں استفادہ کر رہے ہیں۔

وائسرائے لارڈ رپن (Viceroy Lord Ripon)، جو جامعہ کے سرپرست (Patron) تھے، صبح سویرے پشاور سے لاہور پہنچے اور سر چارلس ایچسن (Sir Charles Aitchison ) کے ہاں ناشتے کے بعد سجے ہوئے کوچوں اور انارکلی باغوں (گول باغ) سے ہوتے ہوئے گورنمنٹ کالج پہنچے۔ سب سے قابل ذکر سجاوٹوں میں سے ایک ایک چھوٹا قطب مینار تھا، جو گہرے سبز پتوں اور زرد گیندے کے پھولوں کی قطاروں سے بنا ہوا تھا اور انارکلی بینڈسٹینڈ کے مرکز میں نصب تھا۔ "سینیٹ کا شکریہ،” پرجوش مؤرخ لکھتا ہے، "مسٹر بل (Mr. Bull) اور ان کے معاونین کے لیے بجا طور پر واجب ہے” اس اور دیگر شاندار سجاوٹوں پر۔ "یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے،” جس کے لئے وہ فراخ دلی سے اعتراف کرتا ہے، "کہ ہال کے اندر کوئی کمی نہیں تھی۔” سرپرست (وائسرائے) اور چانسلر سنہری پالش والی کرسیوں پر بیٹھے تھے، جو قرمزی مخمل کے بنے ہوئے، سونے کے کام سے مزین مسند (قالین) سے ڈھکے ہوئے ایک چبوترے پر رکھی تھیں۔ اس چبوترے کے اوپر اسی قسم کے کپڑے کا ایک شامیانہ (بالڈیکوئن) تھا جس کے اوپر ملکہ وکٹوریہ کی سنہری رنگت میں ایک ابھری ہوئی تصویر (میڈلین Medallion) اور پنجاب کے نشانات (آرموریل بیئرنگز Armorial bearings ) نصب تھے۔ دیوار کے اوپر بنی ہوئی تختی (Frieze) پر یہ مقولے درج تھے: "Ex Oriente Lux” (روشنی مشرق سے آتی ہے) اور "Crescat e Fluvii” (دریاؤں سے افزائش ہو)۔ "اس خوبصورت اور مزین تخت کے دائیں اور بائیں جانب،” خوش کن تاریخ نویس لکھتا ہے، "فیلوز (جامعہ کے اراکین) بیٹھے تھے، جن میں نواب بہاولپور، کپور تھلہ کے نوجوان راجا اور راجا فریدکوٹ سرپرست (وائسرائے) کے دائیں جانب تشریف فرما تھے۔” یاد رہے کہ اس سٹیج کے سامنے گریجویٹ، اسکالرز اور حاضرین صف بستہ کھڑے تھے۔ جامعہ کے یورپی اراکین، اس تقریب میں دور دراز علاقوں بخارا اور وسطی ایشیا کے دیگر حصوں کے علاوہ چترال، سوات اور سرحد سےآئے ہوئے سکالرز اور طلبہ بھی شامل تھے۔” صوبے کے امرا، اصحاب فضل اور دانشوروں کی کثیر تعداد موجود تھی، جبکہ یورپی زائرین کی بھی ایک بڑی تعداد تھی، وائسرائے نے، چانسلر کی دعوت پر، جلسہ تقسیم اسناد کا افتتاح کرنے کے بعد، ڈاکٹر لائٹنر (Dr. Leitner) نے سالانہ رپورٹ کا خلاصہ اردو میں پڑھ کر سنایا۔

اس کے بعد انہیں ڈاکٹر آف اورینٹل لرننگ (Doctor of Oriental Learning) کی ڈگری عطا کی گئی۔ اس کے بعد ڈگریاں اور انعامات تقسیم کیے گئے، جس کے بعد لارڈ رپن (Lord Ripon) نے ایک اہم تقریر کی، جس کے دوران انہوں نے کہا: "(یہ جامعہ) پنجاب میں خود بخود وجود میں آئی ہے۔ اور پھر میں اس بات کو انتہائی اطمینان کے ساتھ خیرمقدم کرتا ہوں کہ یہ جامعہ اس صوبے کے مقامی نوابوں اور اصحاب فضل کے عطیات سے قائم کی گئی ہے۔ میں مکمل یقین سے کہتا ہوں کہ ہندوستانی تعلیم کو اس بات سے بہت فائدہ ہوگا کہ اسے بڑی حد تک ہندوستان کے خود باشندے ہی چلائیں۔” دوستو! یہ امر خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے اُس تاریخی جلسۂ اسناد میں وائسرائے لارڈ رِپن نے نواب صادق محمد خان چہارم کو جو اعزاز بخشا، وہ محض ایک رسمی تکریم نہ تھی بلکہ ایک تہذیبی اعترافِ خدمت تھا۔ وائسرائے نے نہ صرف نوابِ بہاولپور کو اپنے ساتھ اسٹیج پر بٹھایا—جو خود ایک غیرمعمولی عزت تھی—بلکہ اپنی تقریر میں جب ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے حکمرانوں کا ذکر کیا تو نوابِ بہاولپور کے عطیات کو خصوصی طور پر سراہا اور شکریہ ادا کیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب علم دوستی اور فیاضی کی روایت کو حکومتی سطح پر سرکاری خراجِ تحسین ملا۔ مگر کہانی یہاں تمام نہیں ہوتی۔ پروفیسر بروس بڑی باریکی سے لکھتے ہیں کہ اس رسمی تقریب کے بعد وائسرائے لارڈ رِپن نے بطور خاص سینیٹ ہال کا معائنہ کیا—

پروفیسر بروس کہتے ہیں کہ ۔ "وائسرائے نے اس کے بعد سینیٹ ہال کا معائنہ کیا، اور نواب بہاولپور کو اس کی تعمیر میں اتنا بڑا حصہ ڈالنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے جامعہ کے کتب خانے اور ہال سے منسلک انگریزی اور مقامی زبانوں کے مطابع (پریس) کا بھی معائنہ کیا۔ ” پروفیسر بروس اپنی جامعہ کی تاریخ پر کتاب کے صفحہ 111 اور 112 پر سابق ریاست بہاولپور کے تعلیمی اداروں خصوصاً صادق ایجرٹن کالج کا ذکر بھی کیا۔ پروفیسر جے ایف بروس جب پنجاب یونیورسٹی کی لائبریری کی ابتدائی کیفیت کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی تحریر قاری کو حیرت اور مسکراہٹ کے امتزاج سے دوچار کر دیتی ہے۔ وہ سن 1903ء کے اس دور کی جھلک دکھاتے ہیں جب علم کی دنیا میں اپنا مقام بنانے والی اس عظیم مادرِ علمی کا کتب خانہ دراصل دو مختصر سی الماریوں پر مشتمل تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ: "یہ سن 1903ء کا ذکر ہے کہ جامعہ کا کتب خانہ دو الماریوں میں واقع تھا۔

چابی ایک جونیئر کلرک کے پاس رہتی تھی، اور کتابیں، میرے خیال میں، صرف ڈاکٹر گریزوولڈ اور میں ہی استعمال کرتے تھے۔” یہ منظر کسی حد تک سادگی کی معراج ہے؛ وہی سادگی جس سے بڑے بڑے ادارے جنم لیتے ہیں۔ دو الماریوں کی یہ خاموش ابتداء بعد کے برسوں میں علم کی ایک ایسی کہکشاں میں بدل گئی جس کی وسعت آج براعظموں پر پھیلی علمی روایت سے کمتر نہیں۔ اسی لطیف پس منظر کے مقابل جب ہم موجودہ دَور کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہیں تو تبدیلی کا حجم اپنی پوری شان سے سامنے آتا ہے۔ جامعہ کے پینتالیسویں جلسۂ تقسیمِ اسناد میں وائس چانسلر نے اپنی تقریر میں بجا طور پر یہ بات کہی کہ آج پنجاب یونیورسٹی کا علمی دائرہ دہلی سے پشاور تک اور بہاولپور سے سیالکوٹ تک پھیلے ہوئے تعلیمی اداروں سے جڑا ہوا ہے۔

یہ محض سرحدوں کا پھیلاؤ نہیں، بلکہ اُس فکری ارتقا کا سفر ہے جس نے دو سادہ الماریوں سے اٹھ کر ایک عظیم اور وسیع و عریض علمی مملکت کو جنم دیا۔ وقت کے ساتھ جامعہ نے نہ صرف اپنے حجم میں اضافہ کیا، بلکہ تحقیق، علوم، فنون اور اعلیٰ تعلیم کے میدان میں ایسے سنگ میل طے کیے کہ آج یہ ادارہ پاکستان کی علمی تاریخ کا روشن مرکز کہلاتا ہے۔ پروفیسر بروس کی سادہ سی شہادت اور موجودہ وائس چانسلر کا فخریہ بیان مل کر اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ پنجاب یونیورسٹی کا سفر محض عمارتوں کی تعمیر کا نہیں تھا بلکہ علم، وقار، روایت اور عظمت کی تشکیل کا سفر تھا—وہ سفر جو آج بھی پوری آب و تاب سے جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں