سموگ فضا میں پھیلتا ہوا خاموش قاتل
سٹوڈنٹس آف سوئل سائنس (7th سمیسٹر) ڈیپارٹمنٹ آف سوئل سائنس۔
فیکلٹی آف ایگریکلچر اینڈ انوائرمنٹ دی اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور۔
دنیا بھر میں سموگ ایک سنگین اور تیزی سے بڑھتا ہوا ماحولیاتی مسئلہ بن چکا ہے۔ چین، بھارت، امریکہ اور یورپ کے کئی بڑے شہر ہر سال اس آلودگی کی لپیٹ میں آتے ہیں، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد صحت کے مختلف مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق سموگ عالمی سطح پر اموات کی ایک بڑی وجہ بن چکا ہے اور سردیوں کے موسم میں ہوا کے نہ بہنے، نمی کے بڑھنے، اور صنعتی گیسوں کے جمع ہونے کے باعث یہ زہر زمین کے بالکل قریب ٹھہر جاتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک، خصوصاً یورپی یونین اور جاپان، نے اس مسئلے کے حل کے لیے سخت قوانین نافذ کیے ہیں۔ صنعتی اخراج پر پابندیاں، گاڑیوں میں جدید فلٹر سسٹم، اور قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی ایسے اقدامات ہیں جنہوں نے ان ممالک کے فضائی معیار میں نمایاں بہتری پیدا کی۔
پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں سے سموگ نے مستقل شکل اختیار کر لی ہے۔ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور شیخوپورہ جیسے صنعتی شہر ہر سال نومبر سے جنوری تک شدید سموگ کی لپیٹ میں رہتے ہیں۔ 2022 میں لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس خطرناک حد 450 تک جا پہنچا، جبکہ 2023 اور 2024 میں بھی صورتحال میں کوئی بڑی بہتری نہ آ سکی۔ سموگ کی وجہ سے سانس، دمہ، دل اور آنکھوں کی بیماریاں بڑھ چکی ہیں۔ بچے، بزرگ اور کمزور صحت رکھنے والے افراد اس آلودگی کے سب سے بڑے شکار ہیں۔ اسپتالوں میں سانس اور چھاتی کی بیماریوں کے مریضوں کی تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے، جو اس مسئلے کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
پاکستان میں سموگ کی بنیادی وجوہات میں گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، صنعتی فیکٹریوں کے اخراج، پرانی مشینری کا استعمال، اور زرعی علاقوں میں فصلوں کی باقیات جلانے کی روایت شامل ہیں۔ خصوصاً پنجاب کے اضلاع میں چاول کی فصل کے بعد کھیتوں میں آگ لگانے سے بڑی مقدار میں دھواں فضا میں شامل ہوتا ہے۔ سرحد پار بھارت کے پنجاب اور ہریانہ ریاستوں میں بھی یہی صورتحال ہے، جس کے اثرات براہ راست پاکستان کی فضائی کیفیت پر پڑتے ہیں۔ یہ ایک سرحدی مسئلہ ہے جس کے لیے علاقائی سطح پر مشترکہ حکمت عملی درکار ہے۔
اگرچہ پاکستان میں سموگ کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومتی سطح پر مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، جیسے اینٹی سموگ اسکواڈز کا قیام، صنعتی یونٹس پر کارروائیاں، جرمانے، ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنز، اور عوامی آگاہی مہمات، لیکن یہ اقدامات مسئلے کی شدت کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔ قوانین موجود ہیں، مگر ان پر عمل درآمد کمزور ہے۔ صنعت، ٹرانسپورٹ اور زراعت کے شعبوں میں جامع اصلاحات کے بغیر فضائی آلودگی پر قابو پانا ممکن نہیں۔
ماحول اور صحت کے ماہرین کے مطابق پاکستان کو فوری طور پر تین بڑے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے:
اوّل، گاڑیوں کے دھوئیں اور صنعتی اخراج پر سخت کنٹرول کیا جائے، جدید فلٹر سسٹمز لازمی قرار دیے جائیں، اور پرانی گاڑیوں کو مرحلہ وار ختم کیا جائے۔
دوئم، فصلیں جلانے کی روایت ختم کرنے کے لیے کسانوں کو جدید مشینری، سبسڈی اور تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ ماحول دوست طریقے اختیار کریں۔
سوئم، شہروں میں بڑے پیمانے پر شجرکاری، صاف توانائی کا فروغ اور جدید پبلک ٹرانسپورٹ سسٹمز متعارف کروائے جائیں تاکہ کاربن اخراج میں واضح کمی لائی جا سکے۔
پاکستان آج ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں سموگ محض موسمی مسئلہ نہیں بلکہ قومی صحت، معیشت اور ماحول کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکی ہے۔ اگر حکومت، کسان، صنعت اور عوام مل کر سنجیدہ اقدامات نہ کریں تو آنے والے برسوں میں ہوا کا معیار مزید خراب ہو جائے گا اور آنے والی نسلوں کے مستقبل پر اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ وقت ہے کہ ہم سموگ کو ایک قومی چیلنج سمجھ کر ایسی پائیدار پالیسیاں بنائیں جو ہمارے بچوں اور آئندہ نسلوں کو صاف، محفوظ اور صحت مند فضا فراہم کر سکیں۔