پی ایچ ایف میں بڑے فیصلے کی تیاری ! خود ساختہ عہدیداروں کو گھر جانا ہوگا، شہلا رضا
یوتھ ویژن نیوز:( یوسف نثار سے) پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کی اسپیشل کمیٹی کی رکن شہلا رضا نے کہا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) میں خود ساختہ عہدیداروں کا دور ختم ہونے والا ہے اور 22 اکتوبر کو وفاقی وزارت بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں قومی ہاکی سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔
کے ایچ اے اسپورٹس کمپلیکس کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہلا رضا نے بتایا کہ فیڈریشن کے حوالے سے قومی اسمبلی کی اسپیشل کمیٹی نے پیپلز پارٹی کے تمام اعتراضات کو تسلیم کر لیا ہے اور پی ایچ ایف کے نئے انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی تشکیل ایک فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ایچ ایف کے خود ساختہ عہدیداروں کو اب واپس گھروں کو جانا ہوگا کیونکہ ان کے غیر قانونی اقدامات نے قومی کھیل کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ شہلا رضا نے کہا کہ قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے ان کے مؤقف کو درست تسلیم کیا ہے اور حکومت سے سفارش کی ہے کہ فیڈریشن میں شفاف انتخابات کے ذریعے نئے نمائندے لائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ خود کو فیڈریشن کا صدر کہلوانے والے طارق بگٹی دراصل نامزد امیدوار تھے لیکن انہوں نے انتخابات کرانے کی ذمہ داری سے انحراف کیا اور اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے مدتِ صدارت ختم ہونے کے باوجود غیر قانونی طور پر عہدہ برقرار رکھا۔ شہلا رضا کے مطابق پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) بھی اس معاملے پر تذبذب کا شکار رہا لیکن اب معاملہ واضح ہو چکا ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی ہاکی فیڈریشن کے مالی امور کا مکمل احتساب کرے۔ انہوں نے کہا کہ فیڈریشن کو دیے گئے 13 کروڑ روپے اور اس سے پہلے ادا کیے گئے ڈیڑھ ارب روپے کے اخراجات کا شفاف آڈٹ ہونا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ قومی کھیل کے فروغ کے نام پر دی گئی رقم کہاں اور کیسے استعمال ہوئی۔ شہلا رضا نے کہا کہ قومی کھیل ہاکی کو تباہ کرنے والوں کو اب جواب دینا ہوگا، کیونکہ پاکستان نے دنیا بھر میں اسی کھیل کے ذریعے اپنی شناخت بنائی تھی۔ انہوں نے زور دیا کہ ہاکی کی بحالی کے لیے شفافیت، میرٹ اور ادارہ جاتی نظم و ضبط ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کھیلوں کے اداروں کو از سرِ نو فعال بنانے کے لیے پرعزم ہے اور جلد ایسی پالیسی متعارف کرائی جائے گی جو قومی کھیلوں کو سیاست سے الگ کر کے پیشہ ورانہ بنیادوں پر مضبوط کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ قومی کھیلوں کے فروغ کی حامی رہی ہے اور ماضی میں بھی فیڈریشنز کو منظم اور مستحکم بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتی رہی ہے۔ شہلا رضا نے امید ظاہر کی کہ 22 اکتوبر کا اجلاس قومی ہاکی کے مستقبل کے لیے ایک نیا موڑ ثابت ہوگا جہاں حکومت، کھلاڑیوں اور عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پی ایچ ایف کے معاملات میں شفافیت لائی گئی تو یہ نہ صرف پاکستان ہاکی کے لیے نیا آغاز ہوگا بلکہ کھیلوں کے دیگر اداروں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔