مذہبی جماعت کے دفتر سے 72 کروڑ روپے برآمد؟ ایف آئی اے کی بڑی کارروائی نے سب کو چونکا دیا

مذہبی جماعت کے دفتر سے 72 کروڑ روپے برآمد؟ ایف آئی اے کی بڑی کارروائی نے سب کو چونکا دیا

ایف آئی اے نے مذہبی جماعت کے خلاف کارروائی میں 72 کروڑ روپے کی رقم برآمد کرلی، متعدد اکاؤنٹس منجمد، مالی معاونت کی چھان بین جاری۔

یوتھ ویژن نیوز : (سُمیر علی خان سے) وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے مذہبی جماعت کے خلاف قانونی اور مالیاتی تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے لاہور نے ریاست مخالف پُرتشدد سرگرمیوں میں ملوث مذہبی جماعت کے مالیاتی معاملات کی جامع چھان بین شروع کی ہے، جس کے دوران اہم عہدیداروں اور کارکنوں کے بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں اور دیگر اثاثوں کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔ حکام نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران احتجاجی سرگرمیوں کی فنڈنگ میں استعمال ہونے والے متعدد اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں جبکہ ایسے افراد کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کیے جا رہے ہیں جو بیرونِ ملک فرار کی کوشش کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹی ایل پی سے متعلق فیک نیوز کے پیچھے کون؟ حکومت کا بڑا کاؤنٹر آپریشن شروع

ایف آئی اے کے مطابق مالی معاونت اور غیرقانونی فنڈنگ میں ملوث عناصر کے خلاف “زیرو ٹالرنس پالیسی” کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں مالی مدد فراہم کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ ادھر پولیس اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ کارروائی کے دوران مذہبی جماعت کے مرکزی دفتر سے برآمد ہونے والے سامان کی تفصیلات نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ تحقیقات کے مطابق دفتر سے ملکی و غیر ملکی کرنسی، سونا، زیورات اور دیگر قیمتی سامان برآمد کیا گیا ہے، جن کی مالیت تقریباً 11 کروڑ 42 لاکھ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ پولیس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ برآمد شدہ کرنسی میں بھارتی روپے، امریکی ڈالر، سعودی ریال، یورو اور برطانوی پاؤنڈ سمیت مختلف ممالک کی کرنسی شامل ہے۔

حکام کے مطابق برآمد شدہ بھارتی کرنسی کی مالیت 50 ہزار روپے کے لگ بھگ ہے جبکہ پاکستانی کرنسی کی مد میں تقریباً 72 کروڑ روپے کے قریب رقم ملی ہے، جو اب تحقیقاتی اداروں کی تحویل میں ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ فنڈنگ مذہبی جماعت کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے لیے استعمال کی جا رہی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف آئی اے کی مالیاتی ٹیمیں مختلف بینکوں اور منی ایکسچینج کمپنیوں سے ریکارڈ حاصل کر رہی ہیں تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ مذکورہ رقم کن ذرائع سے موصول ہوئی اور کن مقاصد کے لیے خرچ کی گئی۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) بھی اس عمل میں ایف آئی اے کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے تاکہ غیر ملکی رقوم کے بہاؤ اور ٹرانزیکشنز کا سراغ لگایا جا سکے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ برآمد ہونے والی کرنسی اور قیمتی سامان کی تفصیلات وزارتِ داخلہ کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں، اور اس کیس کے حوالے سے اعلیٰ سطح کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ پولیس حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔ وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ریاست کسی بھی تنظیم یا فرد کو ملکی قانون سے بالاتر نہیں ہونے دے گی، اور ایسی تمام سرگرمیوں پر سخت کارروائی کی جائے گی جو ریاستی استحکام کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں