وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کا روس کا دورہ، توانائی شعبے میں نیا سنگِ میل، تیل، گیس اور منرلز میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
یوتھ ویژن نیوز : ( علی رضا سے ) وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے عالمی سطح پر منعقدہ انٹرنیشنل گیس فورم 2025 میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ وزیرِ پیٹرولیم نے اس موقع پر پاکستان کے توانائی شعبے میں جاری اصلاحات، سرمایہ کاری کے مواقع اور منرل پالیسی کو دنیا کے سامنے پیش کیا، جسے مختلف ممالک کے ماہرین اور سرمایہ کاروں نے سراہا۔
وفاقی وزیر نے فورم کے دوران توانائی، گیس اور معدنی وسائل کے شعبے سے وابستہ عالمی اقتصادی ماہرین، سرمایہ کاروں اور صنعتی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کیں۔ اپنے خطاب میں علی پرویز ملک نے کہا کہ ”پاکستان تیل، گیس اور معدنیات کے شعبے میں خطے کا ایک اہم مرکز بننے جا رہا ہے، جہاں حکومت توانائی کی پالیسیوں کو شفاف، پائیدار اور سرمایہ کار دوست بنا رہی ہے۔“
انہوں نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے آئندہ ”منرلز انویسٹمنٹ فورم“ میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان کے معدنی وسائل دنیا کے کسی بھی ملک سے کم نہیں، یہاں سرمایہ کاری نہ صرف منافع بخش ہے بلکہ خطے کے استحکام اور ترقی کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔“
دورے کے دوران وفاقی وزیرِ پیٹرولیم کی روسی توانائی کمپنی ”گیزپروم “کے چیئرمین ایلیکسی ملر سے خصوصی ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان توانائی، گیس کی ترسیل، اور معدنی وسائل کی تلاش کے شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ فریقین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور روس کے درمیان طے پانے والے معاہدے دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
ذرائع کے مطابق، ملاقات میں او جی ڈی سی ایل (OGDCL) اور گیزپروم کے درمیان شراکت داری کے نئے منصوبوں پر غور کیا گیا، جن کے تحت جدید ٹیکنالوجی، تربیت، اور ڈرلنگ آپریشنز میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ ”پاکستان اپنے معدنی وسائل کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے، اور روس کے ساتھ تکنیکی شراکت داری ہمارے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔“
فورم کے سائیڈ لائن پر وزیرِ پیٹرولیم کی ملاقات ترکیہ کے وزیر توانائی الپرسلان بیرقدار سے بھی ہوئی۔ اس ملاقات میں توانائی کی سپلائی لائن، ریفائنری منصوبے، اور گیس پائپ لائن تعاون سے متعلق امور زیرِ غور آئے۔ دونوں وزراء نے پاکستان، ترکیہ، اور روس کے درمیان سہ فریقی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ ”پاکستان، روس، اور ترکیہ کے درمیان توانائی کے میدان میں تعاون خطے کے استحکام اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ ہم علاقائی توانائی راہداریوں کو فعال بنا کر خطے کے عوام کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں۔“
اس موقع پر روسی حکام نے پاکستان کے ساتھ توانائی اور معدنیات کے شعبے میں تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ روس پاکستان کے ساتھ ایل این جی، پائپ لائن، اور آئل ریفائننگ کے منصوبوں پر مشترکہ سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے۔
فورم کے دوران علی پرویز ملک نے مختلف ممالک کے وفود سے بھی ملاقاتیں کیں اور پاکستان کی “ڈیجیٹل انرجی ٹرانسفارمیشن پالیسی” پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے نئی انرجی مینجمنٹ اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جن کے تحت مقامی پیداوار میں اضافہ اور درآمدی انحصار میں کمی لائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ”پاکستان کا مقصد ایک ایسا توانائی نظام بنانا ہے جو پائیدار، ماحول دوست اور عوامی ضروریات کے مطابق ہو۔ ہم دنیا کے سرمایہ کاروں کو خوش آمدید کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کی توانائی کہانی کا حصہ بنیں۔“
ماہرین کے مطابق، وفاقی وزیرِ پیٹرولیم کا یہ دورہ پاکستان کی انرجی ڈپلومیسی میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر روس اور پاکستان کے درمیان یہ تعاون عملی شکل اختیار کرتا ہے تو پاکستان کی گیس اور تیل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور توانائی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
فورم میں علی پرویز ملک کی شرکت کو نہ صرف پاکستان کے لیے سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے مستقبل میں اقتصادی استحکام اور توانائی خودکفالت کی سمت ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔