لاس اینجلس آگ کا خفیہ منصوبہ: ChatGPT استعمال کرنے والا ملزم 9 ماہ بعد گرفتار، جان کر ہل جائیں گے آپ!

لاس اینجلس آگ کا خفیہ منصوبہ: ChatGPT استعمال کرنے والا ملزم 9 ماہ بعد گرفتار، جان کر ہل جائیں گے آپ!

لاس اینجلس (9 اکتوبر 2025) امریکی شہر لاس اینجلس کے قریب جنوری 2025 میں لگنے والی مہلک آگ کے مرکزی ملزم کو 9 ماہ بعد گرفتار کرلیا گیا ہے۔ 29 سالہ جوناتھن رِنڈرکنِک، جو ہٹ اوبر ڈرائیور ہے، پر الزام ہے کہ اس نے آدھی رات کے بعد ایک پہاڑی ٹریک کے قریب جھاڑیوں میں آگ لگائی، جس سے پورے علاقے میں زبردست تباہی ہوئی۔ یہ آگ بعد میں پالیسیڈز فائر کی شکل اختیار کر گئی، جو لاس اینجلس کی تاریخ کی سب سے مہلک آگ ثابت ہوئی، جس میں 12 افراد ہلاک اور تقریباً 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم کو تباہ شدہ دنیا کی تصاویر، مایوسی اور تشدد کے موضوعات میں دلچسپی تھی۔ چند ماہ قبل اس نے ChatGPT پر ایک “جلتے ہوئے شہر کی تباہ کن تصویر” تیار کروائی تھی، جس میں جلتا ہوا جنگل اور آگ سے بھاگتے لوگ دکھائے گئے تھے۔ اسی دوران ملزم نے ChatGPT پر سوالات بھی کیے، جیسے کہ اگر آگ سگریٹ سے لگ جائے تو کیا یہ میری غلطی مانی جائے گی۔

حادثے کے دن ملزم نے فرانسیسی ریپر جوسمین کا گانا سنا، جس کی ویڈیو میں خود آگ لگانے کے مناظر شامل تھے۔ آگ لگانے کے بعد، اس نے فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کا پیچھا کیا اور آگ بجھانے کی ویڈیوز ریکارڈ کیں، جو بعد میں اس کے فون سے برآمد ہوئیں۔

ابتدائی طور پر ملزم نے جھوٹ بولا کہ وہ آگ لگنے کے مقام سے دور تھا، لیکن بعد میں اس نے وہ تمام معلومات فراہم کیں جو صرف عینی شاہد جان سکتا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق، آگ ابتدا میں بجھا دی گئی تھی مگر زمین کے اندر دبے رہنے کے بعد دوبارہ بھڑک اٹھی، جس سے تقریباً 6,000 مکانات اور عمارتیں تباہ ہوئیں، جن میں مالِبیو اور پالیسیڈز کے مہنگے ساحلی علاقے شامل تھے۔

اس واقعے نے نہ صرف مقامی عوام کو خوفزدہ کیا بلکہ پورے امریکہ میں آتشزدگی کی حفاظتی پالیسیوں پر سوالات کھڑے کر دیے۔ ملزم کے ChatGPT استعمال کرنے اور آتشزدگی سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی تفصیل نے تحقیقاتی عمل میں ایک نیا رخ دیا ہے، اور یہ معاملہ AI اور جرائم کے تعلق پر بین الاقوامی سطح پر بحث کا باعث بن سکتا ہے۔

فلوریڈا سے گرفتار ہونے والے ملزم کو اب کیلیفورنیا منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ وہ قانونی کارروائی کا سامنا کرے۔ امریکی حکام نے کہا کہ ملزم کو قانونی طور پر جان بوجھ کر آگ لگانے اور ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ اس کیس نے ثابت کیا ہے کہ AI ٹولز کا غلط استعمال کس حد تک خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اور حکومتیں اور سیکیورٹی ادارے اس سلسلے میں محتاط ہو رہے ہیں۔

یہ کیس نہ صرف لاس اینجلس بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سبق آموز واقعہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں احتیاط لازمی ہے، اور AI پلیٹ فارمز کی نگرانی کے بغیر اس کا غلط استعمال انسانی جانوں اور مالی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں