پاکستان نے زلمے خلیل زاد کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا

پاکستان نے زلمے خلیل زاد کے افغانوں کو مسلح کرنے سے متعلق الزامات مسترد کر دیے

یوتھ ویژن نیوز : (ثاقب ابراہیم سے) اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کے لیے امریکا کے سابق خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ اسلام آباد افغان طالبان حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے سابق افغان اہلکاروں کو مسلح کر رہا ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے ان دعووں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان کی انسدادِ دہشتگردی کارروائیوں کو افغانستان میں افغان شہریوں کی بھرتی یا مسلح گروہوں کی سرپرستی سے جوڑنا حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے مترادف ہے۔

زلمے خلیل زاد کے بیان پر پاکستان کا ردعمل

زلمے خلیل زاد نے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان افغان طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے افغانوں کو مسلح کر رہا ہے۔ ان کے مطابق افغان شہریوں کی مبینہ بھرتی سے متعلق اطلاعات پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتی ہیں۔

اس بیان کے بعد پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنا مؤقف جاری کیا۔ وزارت نے کہا کہ خلیل زاد کے الزامات قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں اور انہیں ذاتی ایجنڈے سے جوڑا۔

وزارت اطلاعات نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کی کارروائیاں ان دہشتگرد تنظیموں کے خلاف ہیں جنہیں پاکستانی شہریوں کے لیے خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔

پاکستان کی انسدادِ دہشتگردی کارروائیوں سے متعلق مؤقف

وزارت اطلاعات کے بیان میں کہا گیا کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقوں سے سرگرم تنظیموں کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں کو افغان شہریوں کی بھرتی یا افغانستان میں مسلح گروہوں کی سرپرستی کے الزامات کے ساتھ جوڑنا گمراہ کن ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ ملک دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نمایاں قربانیاں دے چکا ہے اور علاقائی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

وزارت نے یہ بھی کہا کہ غیر مصدقہ الزامات کی تشہیر سے دہشتگردی کے مسئلے اور متعلقہ فریقوں کی ذمہ داریوں سے توجہ ہٹ سکتی ہے۔

افغانستان میں ٹی ٹی پی اور القاعدہ کی موجودگی کا معاملہ

وزارت اطلاعات نے اپنے بیان میں اقوام متحدہ کی نگرانی سے متعلق متعدد رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں افغانستان کے اندر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ سمیت دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے افغان سرزمین سے ہونے والی مبینہ سرحد پار دہشتگردی پر تشویش کا اظہار کرتا آیا ہے۔ اسلام آباد کا مطالبہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔

تاہم، کسی مخصوص دعوے یا الزام کی جانچ کے لیے متعلقہ رپورٹ، اس کے نتائج اور دستیاب آزادانہ شواہد کا الگ سے جائزہ ضروری ہے۔

افغان طالبان حکومت کی ذمہ داری سے متعلق پاکستانی مؤقف

وزارت اطلاعات کے مطابق زلمے خلیل زاد کے الزامات افغان طالبان حکومت کی اس ذمہ داری سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔

بیان میں پاکستان نے بھارت کی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی گروہوں کے ذریعے دہشتگردی سے متعلق الزامات بھی دہرائے۔ یہ مؤقف پاکستانی حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا ہے؛ اسے خبر میں متعلقہ فریق کے بیان کے طور پر ہی سمجھا جانا چاہیے۔

وزارت نے مزید کہا کہ خلیل زاد کی جانب سے غیر مصدقہ دعووں کی تشہیر ان کے مؤقف کو متعصبانہ اور ذاتی ایجنڈے پر مبنی ظاہر کرتی ہے۔

پاکستان افغانستان تعلقات میں سکیورٹی اختلافات

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار دہشتگردی، مسلح گروہوں کی سرگرمیوں اور سکیورٹی کارروائیوں سے متعلق اختلافات دونوں ممالک کے تعلقات کا اہم مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔

اسلام آباد افغان حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کریں، جبکہ الزامات اور جوابی بیانات خطے میں کشیدگی کے خدشات بڑھاتے ہیں۔

زلمے خلیل زاد کے بیان پر پاکستان کا ردعمل بھی اسی پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ تاہم، افغانوں کو مسلح کرنے سے متعلق دعوے اور ان کی تردید کو جانچنے کے لیے آزادانہ شواہد اور متعلقہ فریقوں کے مکمل مؤقف کی دستیابی اہم ہے۔

خلاصہ: پاکستان کی وزارت اطلاعات نے زلمے خلیل زاد کے افغانوں کو مسلح کرنے سے متعلق الزامات مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ وزارت نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں اور افغانستان سے سرگرم گروہوں کی موجودگی سے متعلق اپنے مؤقف کو بھی دہرایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں