مودی کے دور میں بھارتی جمہوریت: بڑھتے چیلنجز اور ابھرتے ہوئے احتجاج
بھارت کے سابق وزیرِاعظم اٹل بہاری واجپائی سے منسوب جمہوری تصور کا خلاصہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اور حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن ملک اور جمہوری نظام کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔ 1996 میں لوک سبھا سے ان کے خطاب کو آج بھی بھارتی سیاست میں جمہوری اقدار اور سیاسی اختلاف کے تناظر میں یاد کیا جاتا ہے۔
اسی تصور کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ بھارتی سیاست، نریندر مودی کی قیادت، انتخابی اداروں کی خودمختاری، مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور نوجوانوں کے احتجاج کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق مودی حکومت کے دور میں ان معاملات پر اہم سوالات سامنے آئے ہیں، جبکہ حکومت اور اس کے حامی اپنی پالیسیوں اور انتخابی کامیابیوں کا دفاع کرتے ہیں۔
بھارتی جمہوریت اور مودی حکومت پر تنقید
نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سیاست میں قوم پرستی اور ہندوتوا کے تصورات نمایاں رہے ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ ان رجحانات نے بھارت کی سیکولر شناخت اور مذہبی تنوع کے بارے میں بحث کو تیز کیا ہے۔
شہریت ترمیمی قانون 2019 اور وقف ترمیمی قانون 2025 بھی ان پالیسیوں میں شامل ہیں جن پر سیاسی جماعتوں، شہری تنظیموں اور مختلف مذہبی حلقوں نے اختلافات کا اظہار کیا۔ ان قوانین کے حامی انہیں اپنے پالیسی مقاصد کے مطابق ضروری قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالفین ان کے ممکنہ اثرات، مساوی شہری حقوق اور آئینی اصولوں کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہیں۔
بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے درمیان طویل عرصے سے نظریاتی روابط موجود ہیں۔ اسی پس منظر میں ناقدین ہندوتوا کے سیاسی اثرات اور بھارت کی کثیر مذہبی معاشرت پر اس کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
نوجوانوں کے احتجاج اور عوامی شکایات
بھارت میں نوجوانوں کی جانب سے تعلیمی نظام، مسابقتی امتحانات، روزگار اور حکومتی جوابدہی کے معاملات پر احتجاج ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ حالیہ احتجاجی تحریکوں میں انتخابی عمل اور الیکشن کمیشن کے کردار سے متعلق اعتراضات بھی شامل ہو گئے ہیں۔
اکتوبر 2026 میں دہلی میں ہونے والے مظاہروں کے بارے میں بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے رپورٹ کیا کہ احتجاج کرنے والے نوجوانوں اور دیگر گروہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں کے معاملے پر سوالات اٹھائے۔ پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لیا، جبکہ حکام نے امن و امان اور احتجاجی سرگرمیوں سے متعلق اپنے اقدامات کا دفاع کیا۔
ان واقعات نے پُرامن احتجاج کے حق، پولیس کے اختیارات اور حکام کی جوابدہی کے بارے میں بحث کو دوبارہ نمایاں کیا ہے۔ جمہوری نظام میں حکومت اور شہریوں کے درمیان اختلافات کا حل شفاف طریقۂ کار، قانونی ضمانتوں اور مؤثر مکالمے سے تلاش کرنا اہم سمجھا جاتا ہے۔
الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات
بھارت کے الیکشن کمیشن کے کردار پر حالیہ بحث کی ایک وجہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی، یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR)، اور اس عمل کے دوران سامنے آنے والے انتظامی اختلافات ہیں۔
دی انڈین ایکسپریس کی ستمبر 2026 کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے اکتوبر 2025 سے اگست 2026 کے دوران کم از کم 14 مواقع پر بعض فیصلوں اور اقدامات پر اعتراضات ریکارڈ کرائے۔ رپورٹ میں ووٹر فہرستوں میں ناموں کے اندراج اور اخراج، متعلقہ سافٹ ویئر تک رسائی اور انتظامی اختیارات سے متعلق اختلافات بیان کیے گئے۔
الیکشن کمیشن نے جواب میں کہا کہ مختلف آرا فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ ہیں اور گزشتہ سال کے فیصلے متفقہ تھے۔ اس لیے ان اختلافات کو ادارے کے اندر سامنے آنے والے اعتراضات کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہے؛ انہیں بذاتِ خود انتخابی دھاندلی یا غیر قانونی فیصلوں کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس بحث کا بنیادی سوال یہ ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کس حد تک شفاف، قابلِ جانچ اور عام ووٹر کے لیے قابلِ رسائی ہے۔ انتخابی اداروں پر اعتماد برقرار رکھنے کے لیے واضح قواعد، مؤثر اپیل کا نظام اور غلطیوں کی بروقت اصلاح اہم ہیں۔
احتجاج، پولیس اور صحافیوں کی آزادی
دہلی میں احتجاجی سرگرمیوں کے دوران پولیس کے اقدامات اور مظاہرین کے ساتھ سلوک پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ بعض رپورٹوں میں احتجاجی مقامات تک رسائی، حراستوں اور صحافیوں کی کوریج سے متعلق مسائل کا ذکر ہوا ہے۔ تاہم ہر مخصوص واقعے کی ذمہ داری اور تفصیلات طے کرنے کے لیے آزادانہ تصدیق اور متعلقہ فریقوں کا مؤقف ضروری ہے۔
صحافیوں کا کردار ایسے حالات میں اہم ہوتا ہے، کیونکہ وہ عوام کو احتجاج، حکومتی اقدامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طرزِعمل سے آگاہ کرتے ہیں۔ اگر صحافیوں کو رپورٹنگ میں رکاوٹوں یا غیر ضروری دباؤ کا سامنا ہو تو اس سے شفافیت اور معلومات تک عوام کی رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔
اس لیے کسی بھی جمہوری معاشرے میں پولیس کی کارروائیوں، صحافیوں کے تحفظ اور احتجاج کے حق سے متعلق شکایات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔
مذہبی اقلیتیں اور سیکولر شناخت
بھارت کی آئینی اور سماجی شناخت میں مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کی موجودگی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مذہبی قوم پرستی کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثرات اقلیتوں کے تحفظ اور مساوی شہریت کے بارے میں خدشات پیدا کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب حکومتی پالیسیوں کے حامی اپنے اقدامات کو قومی مفاد، انتظامی اصلاحات یا قانون سازی کے مقاصد سے جوڑتے ہیں۔ اس اختلاف کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ قوانین کے متن، ان کے نفاذ، عدالتی جائزے اور متاثرہ شہریوں کے تجربات کو الگ الگ دیکھا جائے۔
جمہوری اقدار کا تقاضا ہے کہ شہریوں کے حقوق اور ریاستی اداروں کے فرائض کا جائزہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر لیا جائے۔
بھارتی جمہوریت کا مستقبل: مکالمہ اور جوابدہی
بھارت میں انتخابی شفافیت، نوجوانوں کے احتجاج، مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور آزادیٔ صحافت سے متعلق بحث ملک کے جمہوری مستقبل کے لیے اہم سوالات سامنے لاتی ہے۔ ان معاملات پر تنقید کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دعووں کے ساتھ قابلِ تصدیق شواہد پیش کریں، جبکہ حکومتی اداروں پر بھی لازم ہے کہ وہ جائز سوالات کا واضح جواب دیں۔
اختلافِ رائے جمہوری نظام کا حصہ ہے۔ حکومت، اپوزیشن، عدالتوں، انتخابی اداروں، صحافیوں اور شہری تنظیموں کے درمیان شفاف مکالمہ اعتماد کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
اٹل بہاری واجپائی سے منسوب جمہوری تصور کی روشنی میں بنیادی سوال یہی ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود اداروں کی خودمختاری، شہری حقوق اور قانون کی بالادستی کس طرح برقرار رکھی جائے۔ بھارتی جمہوریت کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے کے بجائے ضروری ہے کہ اس کی کارکردگی کو قابلِ تصدیق شواہد، آئینی اصولوں اور شہریوں کے حقوق کی بنیاد پر جانچا جائے۔