حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان برف پگھلنے لگی؟ مولانا فضل الرحمان میدان میں آگئے
یوتھ ویژن نیوز : (اسلام آباد)- پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور حکومت کے درمیان جاری سیاسی ڈیڈلاک کے خاتمے کیلئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ممکنہ ثالثی کردار کی بات سامنے آگئی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل کی بحالی کیلئے کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف سے ان کے جلد رابطے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
حکومتی مذاکراتی ٹیم نے مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی ملاقات اور اس میں زیرِ بحث معاملات کی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفد میں قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق، وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری شامل تھے۔ یہ ملاقات 7 اکتوبر کو مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ہوئی تھی۔ قومی اسمبلی کے سرکاری بیان کے مطابق ایاز صادق نے ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان کو عمرہ کی سعادت حاصل کرنے پر مبارکباد بھی دی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان موجود اختلافات اور مذاکراتی تعطل کو ختم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انہوں نے سیاسی معاملات کو طاقت کے بجائے افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے ثالثی کے ممکنہ کردار کیلئے بعض شرائط بھی سامنے رکھی ہیں اور دونوں فریقوں کی مذاکرات میں سنجیدگی کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا مؤقف بتایا گیا ہے کہ بنیادی معاملات پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کسی حد تک اتفاقِ رائے پیدا ہونا ضروری ہے تاکہ مذاکرات نتیجہ خیز ہوسکیں۔
وزیراعظم شہباز شریف سے رابطے کا امکان
حکومتی ذرائع کے مطابق اگر مولانا فضل الرحمان ثالثی کیلئے مثبت اشارہ دیتے ہیں تو وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ان کا ٹیلی فونک رابطہ ہوسکتا ہے۔ حکومت کی مذاکراتی ٹیم نے وزیراعظم کو مولانا فضل الرحمان کے مؤقف اور ممکنہ مصالحتی کردار سے آگاہ کردیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں تعطل موجود ہے اور ملک میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے حالیہ دنوں میں سیاسی مسائل کے حل کیلئے قومی مشاورت اور مذاکرات پر زور دیا ہے، جبکہ گورنر راج یا ایمرجنسی کو مسئلے کا مستقل حل قرار دینے سے گریز کیا ہے۔
پی ٹی آئی کا مؤقف کیا ہے؟
دوسری جانب پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں نے حکومت یا مولانا فضل الرحمان کی جانب سے باضابطہ مذاکراتی رابطے کی تردید کی ہے۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ ان کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے ہوئی تھی، تاہم حکومت یا جے یو آئی ف کی طرف سے مذاکرات شروع کرنے کیلئے کوئی باقاعدہ رابطہ نہیں کیا گیا۔ پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما اخونزادہ حسین یوسفزئی نے بھی مذاکرات کے حوالے سے کسی رابطے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
یہ وضاحت اس پیش رفت کی نوعیت کو ابھی غیر حتمی بناتی ہے۔ ایک طرف حکومتی ذرائع مولانا فضل الرحمان کے ممکنہ ثالثی کردار اور وزیراعظم سے رابطے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ابھی کوئی باضابطہ مذاکراتی رابطہ نہیں ہوا۔
محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس کی مشاورت
اسی سیاسی صورتحال میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس کے درمیان بھی رابطہ ہوا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے حکومت سے مذاکرات، سیاسی صورتحال اور آل پارٹیز کانفرنس سے متعلق امور پر مشاورت کی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کی ممکنہ ثالثی کی بات اس لیے بھی اہم سمجھی جارہی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد ایک سیاسی درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم اس مرحلے پر وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان رابطہ یا باقاعدہ مذاکرات کی بحالی کو حتمی پیش رفت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
مجموعی طور پر موجودہ صورتحال میں مذاکرات کی بحالی کے امکانات زیرِ بحث ضرور ہیں، لیکن حکومت، مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی کی جانب سے باقاعدہ مشترکہ اعلان سامنے آنے تک سیاسی رابطوں اور ثالثی سے متعلق تمام اطلاعات کو ذرائع سے منسوب کرکے دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔