مدارس عربیہ دہشت گردی کے خلاف ریاست کے ساتھ ہیں، علامہ طاہر اشرفی کا دوٹوک مؤقف

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی مدارس کی رجسٹریشن اور امن سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے

یوتھ ویژن نیوز : (اسلام آباد) – چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور کوآرڈینیٹر قومی پیغامِ امن کمیٹی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ مدارس عربیہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف ریاستِ پاکستان کے شانہ بشانہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مدارس اور مساجد کے مقدس نام کو دہشت گردی، انتشار یا تشدد پھیلانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

علماء و مشائخ اور مدارس عربیہ کے ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مدارس دینی تعلیم کے ساتھ اسلام اور پاکستان کی خدمت بھی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق امن، قومی یکجہتی اور ملکی استحکام کے لیے مذہبی اداروں، علماء اور ریاستی اداروں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔

مدارس کی رجسٹریشن اور بینک اکاؤنٹس سے متعلق بیان

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے بتایا کہ اسلام آباد میں مدارس عربیہ کی رجسٹریشن اور بینک اکاؤنٹس کھولنے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں اور وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات کے تحت کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن اور بینکنگ کی سہولت تمام متعلقہ وفاقوں اور بورڈز کے لیے فراہم کی جارہی ہے اور مستقبل میں صوبوں میں بھی یہ سہولتیں مہیا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

طاہر اشرفی کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مدارس کے انتظامی مسائل کے حل کے لیے تعاون کرنا چاہیے، تاکہ دینی تعلیمی اداروں کو قانونی اور انتظامی معاملات میں درپیش مشکلات کم ہوسکیں۔

تاہم، رجسٹریشن کے طریقہ کار، متعلقہ اداروں، اہلیت اور بینک اکاؤنٹس کھولنے کے لیے درکار دستاویزات کی تفصیلات کے لیے متعلقہ سرکاری ہدایات سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف مؤقف

طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مدارس اور مساجد کے نام پر دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق مذہبی اداروں کو امن، تعلیم اور معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مدارس عربیہ ماضی میں بھی ریاست کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور ان کے بقول آج بھی ملکی امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی اختلافات کو تشدد یا انتشار کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ معاشرے میں امن کے قیام کے لیے علماء، مذہبی رہنماؤں، حکومت اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ اور تعاون اہم ہے۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی کا کردار

چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے قومی پیغامِ امن کمیٹی کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے حکومت اور مدارس عربیہ کے درمیان فاصلے کم کرنے، باہمی اعتماد بحال کرنے اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے کردار ادا کیا ہے۔

ان کے مطابق کمیٹی مدارس کے وفاقوں، مختلف تنظیموں اور محراب و منبر سے وابستہ قائدین کے ساتھ مل کر امن، قومی وحدت اور استحکامِ پاکستان کے لیے کام جاری رکھے گی۔

طاہر اشرفی نے کہا کہ حکومت اور مذہبی اداروں کے درمیان مسلسل مشاورت سے انتظامی مسائل کے حل اور مشترکہ قومی اہداف کے حصول میں مدد مل سکتی ہے۔

مولانا سلطان محمود ضیاء کی پاکستان علماء کونسل میں شمولیت

اس موقع پر ممتاز عالمِ دین، مفکر اور پاسبانِ اسلام کے سربراہ مولانا سلطان محمود ضیاء نے اپنے ساتھیوں سمیت پاکستان علماء کونسل میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کیا۔

تقریب میں مولانا محمد نعمان ہاشر، مولانا سلطان محمود ضیاء، مولانا طاہر عقیل، مولانا ابو بکر صابری، مولانا سعد ہزاروی اور دیگر علماء و مشائخ بھی موجود تھے۔

مولانا سلطان محمود ضیاء اور ان کے ساتھیوں کی شمولیت سے متعلق اعلان بھی اس اجتماع کا اہم حصہ تھا۔ تاہم، اس شمولیت کے بعد تنظیمی ذمہ داریوں یا آئندہ سرگرمیوں کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

مدارس، حکومت اور قومی یکجہتی

طاہر محمود اشرفی کے بیان میں مدارس کی رجسٹریشن، بینکنگ سہولتوں، مذہبی ہم آہنگی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف کو اہمیت دی گئی۔ ان کے مطابق مدارس اور ریاستی اداروں کے درمیان تعاون سے انتظامی مسائل کے حل اور امن کے فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔

مدارس کی رجسٹریشن اور مالیاتی معاملات میں شفافیت کے لیے واضح قواعد، مؤثر انتظامی رابطے اور متعلقہ اداروں کی رہنمائی اہم ہوں گے۔ اسی طرح انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ تشدد کی روک تھام کے لیے قانون کی یکساں عمل داری اور تمام متعلقہ فریقوں کا تعاون ضروری ہے۔

خبر کا خلاصہ: حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے مدارس عربیہ کے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے اسلام آباد میں مدارس کی رجسٹریشن اور بینک اکاؤنٹس کھولنے کے عمل کا ذکر کیا اور مولانا سلطان محمود ضیاء کی ساتھیوں سمیت پاکستان علماء کونسل میں شمولیت کے اعلان کی بھی اطلاع دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں