مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو3 روزہ سرکاری دورہ اسلام آباد پہنچ گئے

مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی اسلام آباد آمد کی نمایاں تصویر

یوتھ ویژن نیوز :( اسلام آباد)- مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو تین روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔ یہ دورہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر ہو رہا ہے۔ اس دوران پاکستانی قیادت سے اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں اور دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے مذاکرات متوقع ہیں۔

ذرائع کے مطابق، منگل 20 اکتوبر کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ آمد پر وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری اور وزیر مملکت وجیہہ قمر نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔ روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے مالدیپ کے صدر کو پھول بھی پیش کیے۔

مالدیپ کی خاتون اول ساجدہ محمد بھی صدر کے ہمراہ ہیں۔ ان کے علاوہ کابینہ کے وزرا اور اعلیٰ حکام پر مشتمل وفد بھی پاکستان آیا ہے۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں متوقع

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں متوقع

دورے کے دوران صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات متوقع ہے۔ صدر پاکستان معزز مہمان کے اعزاز میں سرکاری عشائیہ بھی دیں گے۔

مالدیپ کے صدر وزیراعظم شہباز شریف سے الگ ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات بھی کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کا جائزہ لیا جائے گا۔ مزید یہ کہ باہمی تعاون کو وسعت دینے کے نئے امکانات پر غور ہوگا۔

اے پی پی اور دیگر دستیاب رپورٹس کے مطابق، مذاکرات میں تجارت، سرمایہ کاری، صحت، تعلیم، سیاحت، زراعت، دفاع، بحری سلامتی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے شعبے زیر بحث آنے کی توقع ہے۔ دونوں رہنما علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

پاکستان مالدیپ بزنس فورم کا انعقاد

دورے کے دوران پاکستان مالدیپ بزنس فورم بھی منعقد ہوگا۔ اس کا مقصد دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان روابط بڑھانا اور تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔

مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی نمایاں تصویر

بزنس فورم کے ذریعے تاجروں اور سرمایہ کاروں کو ایک دوسرے کی مارکیٹوں اور ممکنہ کاروباری شراکت داریوں سے متعلق تبادلہ خیال کا موقع ملے گا۔ تاہم، فورم کے نتیجے میں کسی مخصوص سرمایہ کاری یا تجارتی معاہدے کے طے پانے کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔

دورے کے دوران مختلف شعبوں میں معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط بھی متوقع ہیں۔ ان معاہدوں کی حتمی تفصیلات اور دستخط کے بعد کی صورت حال متعلقہ سرکاری اعلانات سے واضح ہوگی۔

مالدیپ کے صدر کا 11 سال بعد پاکستان کا دورہ

مالدیپ کے کسی صدر کا 11 سال بعد پاکستان کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔ اسی وجہ سے اس دورے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے تناظر میں اہمیت حاصل ہے۔

پاکستان اور مالدیپ کے درمیان سفارتی تعلقات 26 جولائی 1966 کو قائم ہوئے تھے۔ دونوں ممالک 2026 میں ان تعلقات کی 60ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ مالدیپ کے صدر کے دفتر نے بھی اس دورے کو ایک دہائی سے زائد عرصے بعد اعلیٰ سطح کے دوطرفہ رابطے کے طور پر بیان کیا ہے۔

اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور مشترکہ مفاد کے شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کرنا ہے۔

پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات

پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات باہمی احترام، خیرسگالی اور مختلف علاقائی و عالمی فورمز پر تعاون پر مبنی ہیں۔ دونوں ممالک تجارت، سیاحت، تعلیم، صحت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات رکھتے ہیں۔

بحری سلامتی اور موسمیاتی تبدیلی بھی مذاکرات کے اہم ممکنہ موضوعات میں شامل ہیں۔ مالدیپ ایک جزیرہ نما ملک ہے، اس لیے ماحولیاتی تبدیلی اور سمندری معاملات اس کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم، اس دورے کے نتیجے میں کسی مخصوص پالیسی یا منصوبے کے اعلان کی تصدیق متعلقہ سرکاری معلومات سامنے آنے کے بعد ہی کی جا سکے گی۔

مجموعی طور پر صدر محمد معیزو کا دورۂ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے کا موقع ہے۔ ملاقاتوں، بزنس فورم اور متوقع مفاہمتی یادداشتوں کے نتائج سے دوطرفہ تعاون کی آئندہ سمت واضح ہوگی۔

خبر کا خلاصہ: مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو 20 سے 22 اکتوبر تک پاکستان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ ان کی صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ دورے میں تجارت، سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مذاکرات اور پاکستان مالدیپ بزنس فورم بھی شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں