اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کاا سلامتی کونسل میں اصلاحات پر زور
یوتھ ویژن نیوز : (علی رضا سے) جکارتہ: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ادارے کی موجودہ ساخت آج کی جغرافیائی و سیاسی حقیقتوں کی مناسب عکاسی نہیں کرتی۔ ان کے مطابق یہ صورت حال عالمی امن و سلامتی برقرار رکھنے میں اقوام متحدہ کی صلاحیت کو محدود کرتی ہے۔
ذرائع کے مطابق، انتونیو گوتریش نے یہ بات انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں وزارت خارجہ کے زیر اہتمام فارن پالیسی سرکل ٹاکس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ تقریب 19 اکتوبر 2026 کو منعقد ہوئی، جبکہ متعلقہ رپورٹیں 20 اکتوبر کو شائع ہوئیں۔
سلامتی کونسل کی موجودہ ساخت پر سوال
انتونیو گوتریش نے سوال اٹھایا کہ کیا سلامتی کونسل کی موجودہ تشکیل دنیا کے موجودہ جغرافیائی و سیاسی حالات کی حقیقی نمائندگی کرتی ہے؟ ان کے مطابق موجودہ ساخت عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں کو محدود کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی حالات میں تبدیلی کے باوجود بین الاقوامی اداروں کی ساخت اور فیصلہ سازی میں اصلاحات کی ضرورت برقرار ہے۔ ان کے مؤقف کے مطابق سلامتی کونسل کو زیادہ مؤثر اور نمائندہ بنانے سے عالمی تنازعات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر ہوسکتی ہے۔
مستقل ارکان کے کردار پر تنقید
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے سلامتی کونسل کے بعض مستقل ارکان کے کردار پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض مستقل ارکان جنگیں شروع کرکے اور بین الاقوامی قوانین کو نظرانداز کرکے عالمی امن و سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
گوتریش نے اس صورت حال کو عالمی اداروں کی کارکردگی کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیا۔ ان کے مطابق، اگر سلامتی کونسل کے ارکان ہی بین الاقوامی قوانین کے احترام کی مثال قائم نہ کریں تو عالمی امن کے تحفظ کی کوششیں متاثر ہوسکتی ہیں۔
تاہم، اس خطاب میں زیر بحث تنقید کے حوالے سے کسی مخصوص ملک کا نام نہیں لیا گیا۔ اس لیے بیان کو تمام مستقل ارکان یا کسی ایک ملک سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا۔
کثیرالجہتی تعاون ضرورت ہے، انتخاب نہیں
اس موقع پر انڈونیشیا کے وزیر خارجہ ارماناتھا ناصر نے کثیرالجہتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے مطابق، موجودہ عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ممالک کے درمیان مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک، خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، عالمی مسائل کو تنہا حل نہیں کرسکتا۔ اسی لیے بین الاقوامی تعاون، سفارتی رابطوں اور مشترکہ فیصلوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
کثیرالجہتی تعاون سے مراد یہ ہے کہ مختلف ممالک اور عالمی ادارے مشترکہ مسائل کے حل کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں۔ اس میں تنازعات کا پُرامن حل، عالمی قوانین کا احترام اور بین الاقوامی اداروں میں مختلف خطوں کی مؤثر نمائندگی بھی شامل ہے۔
انتونیو گوتریش کا دورۂ انڈونیشیا
انتونیو گوتریش 17 اکتوبر 2026 کو انڈونیشیا کے تین روزہ سرکاری دورے پر پہنچے تھے۔ دورے کے دوران انہوں نے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔
اس دورے میں اقوام متحدہ کے کردار، عالمی تعاون اور بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات جیسے موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ انڈونیشیا نے بھی عالمی اداروں کو زیادہ نمائندہ اور موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اقوام متحدہ میں اصلاحات کی اہمیت
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بین الاقوامی امن و سلامتی سے متعلق اہم ذمہ داریاں انجام دیتی ہے۔ اس کے موجودہ مستقل ارکان چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا ہیں، جبکہ دیگر ممالک غیر مستقل ارکان کے طور پر منتخب ہوتے ہیں۔
سلامتی کونسل کی نمائندگی، فیصلہ سازی اور مستقل ارکان کے اختیارات میں اصلاحات کا معاملہ طویل عرصے سے بین الاقوامی مباحث کا حصہ ہے۔ اس بحث میں خاص طور پر ترقی پذیر ممالک اور مختلف خطوں کی مناسب نمائندگی کا سوال اہم سمجھا جاتا ہے۔
گوتریش کے حالیہ بیان نے ایک بار پھر اس بحث کو نمایاں کیا ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی صورت حال میں اقوام متحدہ کے اداروں کو کس طرح زیادہ مؤثر بنایا جائے۔
خبر کا خلاصہ: انتونیو گوتریش نے جکارتہ میں خطاب کرتے ہوئے سلامتی کونسل کے موجودہ ڈھانچے میں اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بعض مستقل ارکان کے جنگی اقدامات اور بین الاقوامی قوانین کو نظرانداز کرنے پر تنقید کی۔ دوسری جانب انڈونیشیا کے وزیر خارجہ نے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کثیرالجہتی تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔