پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مشترکہ اعلامیہ
یوتھ ویژن نیوز : (استنبول)- پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علاقائی کشیدگی کم کرنے، سفارتی کوششیں جاری رکھنے اور تنازعات کے پائیدار حل کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ چاروں ممالک نے حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت، سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق یکجہتی اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
ترکیہ کی وزارت خارجہ کے مطابق چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے 23 اکتوبر کو استنبول میں ہونے والے آر فور (R4) اجلاس میں علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر تبادلۂ خیال کیا۔ مشترکہ اعلامیے میں فلسطین، یمن، سعودی عرب کی سلامتی، بحری راستوں کے تحفظ اور امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع سمیت اہم امور پر مؤقف پیش کیا گیا۔
آر فور گروپ کیا ہے؟
آر فور چار ممالک، یعنی پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب پر مشتمل علاقائی سفارتی گروپ ہے۔ اس کا مقصد مشترکہ تشویش کے معاملات پر مشاورت، سفارتی رابطوں اور علاقائی امن و استحکام کے لیے تعاون کو فروغ دینا ہے۔
استنبول اجلاس میں چاروں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں جاری تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششوں اور باہمی رابطوں کو جاری رکھا جائے گا۔
حوثی حملوں کی مذمت، سعودی عرب سے یکجہتی
مشترکہ اعلامیے میں یمن کی حکومت اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں، خصوصاً شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔
اعلامیے میں بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حملوں کو بھی قابل مذمت قرار دیا گیا۔ چاروں ممالک نے حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں، دھمکیاں اور حملے بند کرے اور نیک نیتی کے ساتھ سیاسی عمل کی طرف واپس آئے۔
اجلاس میں بحری راستوں کی آزادی اور تحفظ کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔ اعلامیے کے مطابق سمندری راستوں میں خلل عالمی سپلائی چین، توانائی، کھاد اور خوراک کی ترسیل کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس ہو سکتے ہیں۔
آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ
آر فور ممالک نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے آزاد، خودمختار اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا۔
مشترکہ اعلامیے میں متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل پر عمل درآمد کی ضرورت اجاگر کی گئی۔ اس میں فلسطینی ریاست کے لیے 4 جون 1967 کی سرحدوں اور مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنانے کی حمایت بھی شامل ہے۔
وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی آبادکاری کی سرگرمیوں اور فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کی مذمت کی۔ اعلامیے میں اسرائیلی کارروائیاں فوری بند کرنے، بیت المقدس کی قانونی اور تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں روکنے اور غزہ میں انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
امریکا، اسرائیل اور ایران کے تنازع کا سفارتی حل
مشترکہ اعلامیے میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری فوجی تنازع کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
چاروں ممالک نے شہریوں، شہری تنصیبات اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad MoU) کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔
اعلامیے میں مستقل اور پائیدار مذاکراتی حل کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا رکاوٹ آمدورفت بحال رکھنے کی اہمیت اجاگر کی اور ایسے اقدامات یا پابندیوں کی مخالفت کی جو قانونی بحری نقل و حرکت میں رکاوٹ بنیں۔
علاقائی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق
آر فور ممالک نے مشترکہ اعلامیے میں اتفاق کیا کہ مشرق وسطیٰ اور دیگر متعلقہ علاقائی معاملات پر قریبی مشاورت اور رابطہ برقرار رکھا جائے گا۔
اجلاس میں فلسطین، یمن، سعودی عرب کی سلامتی اور بحری راستوں کے تحفظ سے متعلق امور کو علاقائی امن و استحکام کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
چاروں ممالک کا مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ علاقائی تنازعات کے حل، انسانی بحرانوں میں کمی اور بحری سلامتی کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔