پاکستان اور مالدیپ کا دوطرفہ تجارت دو سال میں 200 ملین ڈالر تک لے جانے پر اتفاق
یوتھ ویژن نیوز : (علی رضا سے)– پاکستان اور مالدیپ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے 20 مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ ہوگیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے دوطرفہ تجارت کو آئندہ دو برس میں 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا۔
21 اکتوبر 2026 کو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والی تقریب میں دونوں رہنماؤں نے مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کا مشاہدہ کیا۔ پاکستانی سرکاری ذرائع کے مطابق، معاہدوں میں صحت، دفاع، آئی ٹی، سائبر سکیورٹی، تعلیم، سیاحت، زراعت، ماہی گیری، بحری سلامتی اور موسمیاتی تبدیلی سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔
آئی ٹی، دفاع اور صحت سمیت 20 شعبوں میں تعاون
پاکستان اور مالدیپ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں اور ٹیکنالوجی و جدت کے شعبے شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے منشیات کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام میں تعاون بڑھانے پر بھی مفاہمت کی۔
صحت کے شعبے میں تعاون، طبی ماہرین کی بھرتی اور پاکستان کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (DRAP) اور مالدیپ کی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے درمیان روابط سے متعلق یادداشتوں کا تبادلہ ہوا۔ اس کے علاوہ دفاعی تعاون، بحری سلامتی، سماجی تحفظ اور ماحولیاتی امور بھی معاہدوں میں شامل ہیں۔
تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ ان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن، تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم، نوجوانوں اور کھیلوں کی ترقی، سیاحت، فضائی رابطوں، فنون لطیفہ، ثقافت اور ورثے سے متعلق معاملات شامل ہیں۔ سرکاری فہرست میں پولیس تربیت، سول سروس تعاون اور زرعی اجناس و خوراک کی تجارت کے شعبے بھی شامل ہیں۔
دو سال میں تجارت 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف
مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان مالدیپ کے ساتھ اپنے دیرینہ، برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ ان کے مطابق، دونوں ممالک تجارتی اور معاشی روابط کو نئی سطح تک لے جانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
پاکستان کے سرکاری بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے موجودہ تقریباً 13.4 ملین ڈالر کے تجارتی حجم کو آئندہ دو برس میں 200 ملین ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس مقصد کے لیے سرمایہ کاری، نجی شعبے کی شراکت داری، سیاحت اور فضائی و بحری رابطوں کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مالدیپ کو ضروری غذائی اشیا اور ادویات کی فراہمی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مالدیپ کے پانچ ملین درخت لگانے کے اقدام میں تعاون کا اعلان بھی کیا، جس کے تحت پاکستان اگلے 12 ماہ میں زیتون کی ایک لاکھ قلمیں اور مختلف پودوں کے ایک لاکھ بیج فراہم کرے گا۔
تعلیم، سیاحت اور انسانی وسائل میں تعاون
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ تعلیم، صحت، سیاحت اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی ڈاکٹروں اور معاون طبی عملے کی جانب سے مالدیپ میں خدمات انجام دینے کا بھی ذکر کیا۔
وزیراعظم نے مالدیپ کے طلبہ کے لیے سالانہ 20 اضافی انڈرگریجویٹ وظائف دینے کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق، پیشہ ورانہ تربیت، استعداد کار میں اضافے اور تعلیمی روابط کو مضبوط بنانے سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
مالدیپ کے صدر محمد معیزو نے پاکستان میں ملنے والی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری اور سیاحت میں ٹھوس مواقع میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
فلسطین، کشمیر اور آبی امور پر پاکستان کا مؤقف
وزیراعظم شہباز شریف نے مشترکہ نیوز کانفرنس میں فلسطین اور جموں و کشمیر کے معاملات پر بھی پاکستان کا مؤقف دہرایا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اظہار کیا۔
مسئلہ کشمیر کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ اس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر پاکستان کے تحفظات مالدیپ کے صدر کے سامنے رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ مؤقف وزیراعظم کے بیان کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
صدر مالدیپ کو اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا گیا
دورے کے دوران بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے صدر محمد معیزو کو سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا۔ تقریب وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوئی اور وزیراعظم شہباز شریف نے جامعہ کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کے ہمراہ اعزازی ڈگری پیش کی۔
صدر معیزو نے اس اعزاز پر شکریہ ادا کیا اور اسے مالدیپ کے عوام اور دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کے لیے اعزاز قرار دیا۔
اس سے قبل وزیراعظم ہاؤس آمد پر صدر معیزو کا باضابطہ استقبال کیا گیا۔ انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور انہوں نے یادگاری پودا بھی لگایا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات میں بھی تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، سیاحت اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی۔
پاکستان اور مالدیپ کے درمیان سفارتی تعلقات 1966 میں قائم ہوئے تھے۔ صدر معیزو کا یہ سرکاری دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کی 60ویں سالگرہ کے موقع پر ہوا، جس میں فریقین نے مستقبل میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
خبر کا خلاصہ: پاکستان اور مالدیپ نے 20 مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا اور دوطرفہ تجارت کو آئندہ دو برس میں 200 ملین ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا۔ معاہدوں میں صحت، دفاع، آئی ٹی، تعلیم، سیاحت، زراعت، ماہی گیری، سماجی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سمیت متعدد شعبے شامل ہیں۔