ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ 2026 منظور، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی قابلِ سزا قرار
یوتھ ویژن نیوز : (شہزاد چوہدری سے) ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ 2026 منظور، بیوی کو طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا قابلِ سزا جرم، تین سال قید اور ایک لاکھ جرمانہ ممکن۔
اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بیوی بچوں کے سماجی تحفظ سے متعلق ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ 2026 منظور کر لیا گیا ہے، جس کے تحت گھریلو تشدد کے مختلف مظاہر کو قابلِ تعزیر جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ اس قانون کا اطلاق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد تک محدود ہوگا۔
ڈومیسٹک وائلنس بل 2026 منظور: بیوی، بچوں اور گھر کے دیگر افراد کے تحفظ کے لیے سخت قوانین نافذ
منظور شدہ قانون کے مطابق بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا اور بیوی کو اس کی مرضی کے بغیر دیگر افراد کے ساتھ گھر میں رہنے پر مجبور کرنا قابلِ سزا جرم تصور ہوگا۔ قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ گھریلو زندگی میں خوف، دباؤ اور عدم تحفظ پیدا کرنے والے اقدامات تشدد کے زمرے میں آئیں گے۔
جذباتی اور نفسیاتی تشدد بھی شامل
ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ کے تحت بیوی، بچوں یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو گالی دینا، مسلسل ذہنی دباؤ میں رکھنا یا جذباتی و نفسیاتی طور پر ہراساں کرنا بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔ قانون سازوں کے مطابق تشدد صرف جسمانی ہی نہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی سطح پر بھی ہو سکتا ہے۔
سزائیں اور جرمانے کی تفصیل
قانون کے تحت جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزم کو تین سال تک قید یا ایک لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید چھ ماہ قید کی سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔
معاشی اور جنسی استحصال بھی قابلِ گرفت
ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ میں جنسی استحصال کے ساتھ ساتھ معاشی استحصال کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس کا مقصد گھریلو سطح پر کمزور فریق کے قانونی اور سماجی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔