حرمین شریفین مسلمانوں کی ریڈ لائن ہیں، سلامتی پر سمجھوتہ نہیں ہوسکتا: طاہر اشرفی
یوتھ ویژن نیوز : (عمران قذافی سے) اسلام آباد: چیئرمین پاکستان علما کونسل اور سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل حرمین شریفین کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی جانب بیلسٹک میزائل داغے جانے کی اطلاعات پر تشویش اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حرمین شریفین مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس مقامات ہیں اور ان کے تقدس و سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
اپنے بیان میں طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ حرمین شریفین دو ارب مسلمانوں کی ریڈ لائن ہیں۔ ان کے مطابق ان مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے مسلم امہ کو متحد ہوکر واضح مؤقف اپنانا چاہیے۔
او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ
حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے مطالبہ کیا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا فوری ہنگامی اجلاس بلانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ صورت حال کا جائزہ لینے اور خطے میں سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اجلاس بلائے۔
طاہر اشرفی کے مطابق حرمین شریفین کے تحفظ کا معاملہ پوری مسلم دنیا کے لیے اہمیت رکھتا ہے، اس لیے اسلامی ممالک کی قیادت کو مشترکہ حکمت عملی اور واضح مؤقف کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
مسلم امہ سے اتحاد اور مشترکہ مؤقف اپنانے کی اپیل
طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ بیت اللہ العتیق اور مسجد نبوی ﷺ کا تقدس مسلمانوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مقدس مقامات کی سلامتی کے معاملے پر مسلم امہ کو متحد رہنا چاہیے اور کسی بھی خطرے کے مقابلے کے لیے سفارتی اور اجتماعی کوششیں کی جانی چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کی قیادت کو موجودہ صورت حال میں واضح اور مشترکہ فیصلہ کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق حرمین شریفین کا تحفظ صرف ایک ملک کا معاملہ نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات اور مذہبی وابستگی سے جڑا ہوا ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی
چیئرمین پاکستان علما کونسل نے کہا کہ حرمین شریفین کے دفاع اور سعودی عرب کی سلامتی و استحکام کے لیے مسلم امہ سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ ممالک اور عالمی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق سلامتی کے خدشات سے نمٹنے کے لیے مؤثر رابطے، مشترکہ کوششیں اور مناسب سفارتی اقدامات ضروری ہیں۔
میزائلوں سے متعلق اطلاعات اور سرکاری مؤقف
سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق 24 اکتوبر 2026 کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے بعد ان کے ملبے کے مختلف مقامات پر گرنے کی اطلاع دی گئی۔ سعودی حکام کے مطابق ملبہ مکہ کے علاقے وادی المغمس سمیت جدہ، طائف اور رابغ کے بعض مقامات پر گرا۔
تاہم، رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے مقدس شہروں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کارروائیوں کے اہداف تیل کی تنصیبات اور فوجی مقامات تھے۔ اس لیے میزائلوں کے مبینہ اہداف اور حملے کی نوعیت کے حوالے سے مختلف بیانات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
اس صورت حال پر طاہر محمود اشرفی کا بیان حرمین شریفین کی سلامتی، سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی اور عالمی اداروں سے فوری سفارتی اقدامات کے مطالبے پر مرکوز ہے۔
عالمی اداروں سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ
طاہر محمود اشرفی نے او آئی سی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ صورت حال کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور خطے میں سلامتی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
ان کے مطابق حرمین شریفین کے تحفظ اور سعودی عرب کے استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ انہوں نے مسلم ممالک کی قیادت پر زور دیا کہ وہ باہمی اتحاد، سفارت کاری اور تعاون کے ذریعے ایسے اقدامات کی حمایت کریں جو کشیدگی کم کرنے اور مقدس مقامات کی سلامتی یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔