حق کی تلاش یا اپنے تعصب کی وکالت

پاکستان کی قومی یکجہتی اور سیاسی تعصب کے موضوع پر علامتی تصویر

خصؤصی تحریر : محمد سرفراز ذوق

ایک بہت پرانا واقعہ یاد آ رہا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ دو مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علما کے درمیان ایک مناظرہ ہوا، جس کا موضوع نبی کریم ﷺ کے فضائل، مراتب اور مقام و مرتبے سے متعلق تھا۔

ایک عالم کا مؤقف تھا کہ حضور اکرم ﷺ کے فضائل بیان کرتے ہوئے ایسی صفات اور اختیارات منسوب نہیں کرنے چاہییں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں۔ دوسری جانب دوسرے عالم کا کہنا تھا کہ آپ ﷺ کے مقام و مرتبے کو بیان کرتے ہوئے ایسی کمی بھی نہیں کرنی چاہیے جو بے ادبی یا توہین کے زمرے میں آ جائے۔

یہ مناظرہ کئی روز جاری رہا۔ آخری نشست میں منتظمین نے دونوں علما سے کہا کہ وہ اپنے آخری دلائل اور حوالہ جات پیش کریں تاکہ مناظرے کا فیصلہ کیا جا سکے۔

بیان کرنے والے عالم کے مطابق، وہ اس وقت سوچنے لگے کہ کون سی کتابوں سے نبی کریم ﷺ کے فضائل، عظمت، بلند مراتب اور اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ ﷺ کی محبوبیت کے دلائل جمع کیے جائیں۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ اپنے مؤقف کی تائید میں مستند حوالہ جات پیش کیے جا سکیں۔

اسی دوران ان کے ذہن میں ایک سوال آیا: کیا دوسری طرف کے عالم بھی ایسے ہی حوالے تلاش کر رہے ہوں گے، لیکن اس مقصد سے کہ نبی کریم ﷺ کے مقام و مرتبے کو کم کرکے دکھایا جا سکے؟

یہ خیال آتے ہی انہوں نے کتابیں جمع کرنے کا ارادہ ترک کیا اور مناظرے کی جگہ واپس آ گئے۔ ان کے مطابق، وہاں دوسرے عالم کے سامنے متعدد کتابیں موجود تھیں۔

انہوں نے دوسرے عالم سے کہا کہ وہ ایک سنجیدہ سوال کا جواب قسم کھا کر دیں۔ پھر پوچھا کہ کیا وہ واقعی ایسے حوالے تلاش کر رہے تھے جن سے نبی کریم ﷺ کے مقام و مرتبے کو کم کرکے پیش کیا جا سکے؟

بیان کے مطابق، دوسرے عالم نے اس سوال کا جواب اثبات میں دیا۔ اس پر پہلے عالم نے کہا کہ وہ اب مزید مناظرہ نہیں کرنا چاہتے۔ روایت میں آگے بیان کیا جاتا ہے کہ اس گفتگو نے دوسرے عالم کو اپنے طرزِ فکر پر نظرثانی کرنے پر آمادہ کیا۔

اس واقعے کی تاریخی صحت اور اصل ماخذ کی تصدیق اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس میں پوشیدہ اخلاقی سوال نہایت قابلِ غور ہے: کیا ہم حق تلاش کرتے ہیں یا صرف اپنے پہلے سے قائم مؤقف کو درست ثابت کرنے کے لیے دلائل جمع کرتے ہیں؟

جب علم، تحقیق کے بجائے تعصب کا ذریعہ بن جائے

یہ سوال صرف مذہبی مباحث تک محدود نہیں۔ ہماری سیاسی، سماجی اور قومی زندگی میں بھی اس رویے کی مثالیں نظر آتی ہیں۔

ہم بعض اوقات اپنے مکتبِ فکر، جماعت، پسندیدہ رہنما یا نظریے سے اس حد تک وابستہ ہو جاتے ہیں کہ حقائق کو غیر جانب داری سے دیکھنے کی صلاحیت متاثر ہونے لگتی ہے۔ پھر ہماری تحقیق کا مقصد حقیقت تک پہنچنا نہیں رہتا، بلکہ اپنے پسندیدہ مؤقف کا دفاع کرنا بن جاتا ہے۔

ایسی صورت میں دلیل وہی اچھی لگتی ہے جو ہماری رائے کی تائید کرے، جبکہ مخالف مؤقف کی مضبوط دلیل بھی ہمیں قبول نہیں ہوتی۔ ہم اپنے لیے الگ معیار اور دوسروں کے لیے الگ پیمانہ مقرر کر لیتے ہیں۔

یہی رویہ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی اور قومی معاملات کو جماعتی مقابلے میں تبدیل کر دیتا ہے۔

پاکستان کی کامیابی بھی سیاسی عینک سے کیوں دیکھی جاتی ہے؟

آج ہمارے قومی اور سیاسی رویوں میں بھی یہی مسئلہ دکھائی دیتا ہے۔ اگر پاکستان کے لیے کوئی اچھی خبر آئے، ملک عالمی سطح پر کوئی کامیابی حاصل کرے یا کسی پاکستانی ادارے کی کارکردگی کو سراہا جائے تو بعض لوگ اسے تسلیم کرنے کے بجائے اس میں خامیاں تلاش کرنے لگتے ہیں۔

اس کے برعکس، اگر کسی عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی پوزیشن نیچے آ جائے یا کسی شعبے میں منفی پیش رفت سامنے آئے تو اس خبر کو نمایاں کرنے میں غیر معمولی دلچسپی دکھائی جاتی ہے۔

کسی کامیابی کے بارے میں کہا جاتا ہے:

’’اس میں پاکستان کا کیا کردار تھا؟‘‘

’’اس کا کریڈٹ تو کسی دوسرے ملک کو جاتا ہے۔‘‘

’’یہ کامیابی اصل میں کسی اور وجہ سے ملی ہے۔‘‘

ممکن ہے بعض مواقع پر ان اعتراضات میں حقیقت بھی موجود ہو۔ ہر کامیابی کا تنقیدی جائزہ لینا اور اس کے حقیقی اسباب جاننا ضروری ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم کسی نتیجے کو جانچنے سے پہلے ہی فیصلہ کر لیتے ہیں کہ اسے تسلیم نہیں کرنا۔

اگر کوئی کامیابی واقعی مشترکہ کوششوں، علاقائی تعاون یا بیرونی عوامل کا نتیجہ ہے تو اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔ لیکن صرف اس وجہ سے کسی کامیابی کی اہمیت کم کر دینا کہ اس سے موجودہ حکومت، کسی ادارے یا سیاسی مخالف کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، انصاف نہیں۔

قومی کامیابی کو تسلیم کرنا اور اس کے اسباب کا تنقیدی جائزہ لینا ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں۔

حکومت پر تنقید اور پاکستان سے محبت میں کوئی تضاد نہیں

یہاں ایک بنیادی بات سمجھنا ضروری ہے: حکومت پر تنقید کرنا شہریوں کا حق ہے۔ کسی حکومت کی پالیسی، فیصلے، کارکردگی اور ترجیحات کا احتساب جمہوری معاشرے کا لازمی حصہ ہے۔

اسی طرح ریاستی ادارے بھی تنقید اور احتساب سے بالاتر نہیں۔ اگر کہیں غلطی ہو، ناانصافی ہو، بدانتظامی ہو یا عوامی مفاد کو نقصان پہنچے تو اس کی نشاندہی ہونی چاہیے۔

لیکن تنقید اور تعصب میں فرق ہوتا ہے۔

تنقید حقائق کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد غلطی کی نشان دہی، اصلاح اور بہتر نتائج کا حصول ہوتا ہے۔ تعصب میں اکثر نتیجہ پہلے طے کر لیا جاتا ہے اور پھر حقائق کو اسی نتیجے کے مطابق پیش کیا جاتا ہے۔

اگر کسی جماعت کی حکومت ہو تو اس کی اچھی کارکردگی کو تسلیم کرنا اور غلط فیصلوں پر تنقید کرنا ممکن ہے۔ اسی طرح، کسی مخالف جماعت کی حکومت میں بھی اچھی پالیسی کی حمایت اور غلط پالیسی کی مخالفت کی جا سکتی ہے۔

سیاسی بلوغت یہی ہے کہ ہم اپنی پسند اور ناپسند سے الگ ہو کر ہر فیصلے کو اس کے حقیقی نتائج کی بنیاد پر جانچیں۔

کیا سیاسی وابستگی قومی مفاد سے بڑی ہو سکتی ہے؟

پاکستان کسی ایک سیاسی جماعت، رہنما یا حکومت کی ملکیت نہیں۔ یہ ہم سب کا ملک ہے، اور اس کے عوام کی کامیابی، سلامتی اور وقار کا تعلق کسی ایک سیاسی دور سے نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل سے ہے۔

حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور جاتی رہتی ہیں، لیکن قومی مفاد مستقل اہمیت رکھتا ہے۔

اگر پاکستان کو کسی شعبے میں کامیابی ملتی ہے تو اس کامیابی کے حقیقی اسباب جاننا، اس کی کمزوریوں کی نشان دہی کرنا اور مستقبل کے لیے بہتر حکمتِ عملی تجویز کرنا زیادہ مفید رویہ ہے۔ اس کے برعکس، کامیابی کو محض سیاسی مخالفت کی وجہ سے رد کر دینا قومی مکالمے کو کمزور کرتا ہے۔

ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ جب ہم کسی کامیابی کو بلاوجہ جھٹلاتے یا کسی ناکامی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں تو کیا ہم خود بھی غیر متوازن بیانیے کا حصہ نہیں بن جاتے؟

کسی بھی خبر، دعوے یا تجزیے کو قبول کرنے سے پہلے اس کے شواہد، پس منظر اور قابلِ اعتماد ذرائع کو دیکھنا ضروری ہے۔ نہ ہر سرکاری دعویٰ بغیر سوال قبول کیا جانا چاہیے اور نہ ہر کامیابی محض سیاسی مخالفت کی وجہ سے مسترد کر دینی چاہیے۔

حقائق کو اپنی پسند کے مطابق نہ بدلیں

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم اختلاف کیوں کرتے ہیں۔ اختلاف ایک زندہ معاشرے کی علامت ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہم اختلاف کے باوجود سچائی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں؟

کیا ہم اپنی پسندیدہ جماعت کی غلطی مان سکتے ہیں؟ کیا ہم سیاسی مخالف کی کسی درست بات کو تسلیم کر سکتے ہیں؟ کیا ہم کسی قومی کامیابی کو اس وقت بھی سراہ سکتے ہیں جب اس کا سیاسی فائدہ ہماری پسندیدہ جماعت کو نہ پہنچ رہا ہو؟

اگر ان سوالات کے جواب نفی میں ہیں تو ہمیں اپنے رویوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

شخصیت پرستی اور سیاسی تعصب ہمیں اس مقام پر لے جا سکتے ہیں جہاں ہم اپنے رہنما کے ہر فیصلے کا دفاع اور مخالف کے ہر فیصلے کی مخالفت کو اپنی ذمہ داری سمجھنے لگتے ہیں۔ اس صورت میں ہم آزادانہ سوچنے والے شہری نہیں رہتے، بلکہ اپنی سیاسی وابستگی کے اسیر بن جاتے ہیں۔

ہمیں اپنی رائے بدلنے کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر نئے شواہد سامنے آئیں تو اپنی رائے پر نظرثانی کرنا فکری دیانت کی علامت ہے۔

پاکستان سے محبت کا اصل تقاضا

پاکستان سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت کی ہر بات کی حمایت کی جائے۔ اسی طرح، حکومت سے اختلاف کا مطلب یہ بھی نہیں کہ پاکستان کی ہر کامیابی کی مخالفت کی جائے۔

جہاں غلطی ہو، اس پر تنقید کریں۔ جہاں ناانصافی ہو، اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔ جہاں عوام کے حقوق متاثر ہوں، وہاں سوال کریں۔ لیکن جہاں کسی پاکستانی شہری، ادارے یا قومی کوشش کو حقیقی کامیابی ملے، وہاں اسے تسلیم کرنے میں بخل نہ کریں۔

قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ ہم جذبات کے ساتھ ساتھ عقل، تحقیق اور انصاف کو بھی اہمیت دیں۔ ہمیں ایسی سیاست کی ضرورت ہے جس میں اختلاف ہو، مگر حقائق سے انکار نہ ہو؛ تنقید ہو، مگر ذاتی دشمنی نہ ہو؛ اور قومی کامیابی کا ذکر ہو تو اسے محض جماعتی عینک سے نہ دیکھا جائے۔

آخر میں سوال وہی ہے جس سے بات شروع ہوئی تھی: کیا ہم حق کی تلاش میں ہیں یا صرف اپنے تعصب کی وکالت کر رہے ہیں؟

اگر ہم حقیقت کو صرف اس وقت قبول کرتے ہیں جب وہ ہماری پسند کے مطابق ہو، تو پھر مسئلہ حقائق میں نہیں، ہمارے رویے میں ہے۔

سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن خدارا! اپنی سیاسی نفرت کو اس مقام تک نہ لے جائیں کہ اپنے ہی ملک کی حقیقی کامیابی، عزت اور وقار کو کم کرنے میں خوشی محسوس ہونے لگے۔

پاکستان ہم سب کا ہے۔ اسے بہتر بنانے کے لیے اختلاف بھی ضروری ہے اور سچائی کو تسلیم کرنے کا حوصلہ بھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں