دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، ہتھیار ڈالیں یا انجام بھگتیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

یوتھ ویژں نیوز : (اسلام آباد)- دہشت گردوں سے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں، ہتھیار ڈالنا ہوں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کے مطابق ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کو یا تو قانون کے مطابق ہتھیار ڈالنا ہوں گے یا پھر سیکیورٹی فورسز ان کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو یہ واضح پیغام مل چکا ہے کہ ریاست ان کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گی اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

بلوچستان سے متعلق پروپیگنڈا مسترد

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جان بوجھ کر بلوچستان کے حالات کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق مخصوص عناصر صوبے میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ معرکۂ حق میں ناکامی کے بعد دشمن نے اپنی توجہ بلوچستان پر مرکوز کی۔

انہوں نے لاپتا افراد کے معاملے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض افراد بعد میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث پائے گئے یا سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے دوران مارے گئے۔ ان کے مطابق لاپتا افراد سے متعلق مختلف اعداد و شمار پیش کیے جاتے رہے ہیں، تاہم سرکاری مؤقف کے مطابق اس حوالے سے پھیلایا جانے والا پروپیگنڈا درست نہیں۔

گزشتہ پانچ برس میں 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملک بھر میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے گئے، جن میں 2 ہزار 84 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں 31 ہزار 80، خیبرپختونخوا میں 7 ہزار 177 جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں 2 ہزار 91 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔

رواں سال کی صورتحال

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران 303 فوجی جوان اور 322 شہری شہید ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سال 2026 کے دوران دھماکوں کے 28 واقعات رپورٹ ہوئے اور بعض واقعات میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا۔

دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم

پریس کانفرنس کے اختتام پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں