پی ٹی آئی کے اندر اختلافات؟ رکن اسمبلی نے وزیراعلیٰ کے بھائی پر سنگین الزامات لگا دیے

پی ٹی آئی رکن اسمبلی عبدالغنی آفریدی کی فائل فوٹو

یوتھ ویژن نیوز : ( پشاور) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی عبدالغنی آفریدی نے وزیراعلیٰ کو ایک خط لکھ کر ان کے بھائی نوید آفریدی پر اپنے حلقہ پی کے 71 میں مبینہ سیاسی اور انتظامی مداخلت کے الزامات عائد کیے ہیں اور معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

خط میں کیا مؤقف اختیار کیا گیا؟

عبدالغنی آفریدی نے یہ خط سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (X) پر بھی جاری کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ نوید آفریدی حلقے میں کھلی کچہریوں کا انعقاد اور سرپرستی کرتے ہیں، جبکہ مختلف سرکاری محکموں کے افسران کو ان تقریبات میں شرکت پر مجبور کیا جاتا ہے۔

خط میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ ان تقریبات میں شرکت سے انکار کرنے والے بعض افسران کو تبادلوں کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔

سیاسی ساکھ متاثر ہونے کا دعویٰ

رکن اسمبلی کے مطابق ان مبینہ اقدامات کے باعث ان کی سیاسی ساکھ اور عوامی نمائندے کے طور پر اختیارات متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اس معاملے سے متعدد بار وزیراعلیٰ کو آگاہ کر چکے ہیں، جبکہ صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کے ذریعے بھی شکایت پہنچائی گئی، تاہم اب تک کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں آئی۔

ضلعی انتظامیہ پر بھی سوالات

عبدالغنی آفریدی نے ضلعی انتظامیہ اور بعض سرکاری افسران کے کردار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ مبینہ طور پر غیر منتخب افراد کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں، جس سے انتظامی معاملات اور عوامی نمائندگی متاثر ہو رہی ہے۔

تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ

رکن اسمبلی نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو وہ قانونی اور سیاسی راستہ اختیار کرنے پر غور کریں گے۔

نوٹ: یہ خبر متعلقہ رکن اسمبلی کے الزامات اور عوامی طور پر جاری کیے گئے خط پر مبنی ہے۔ خبر کی اشاعت تک وزیراعلیٰ یا نوید آفریدی کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں