پاکستان نے افغانستان کو دہشت گرد حملوں پر سخت احتجاج کر دیا، ویزہ پالیسی سخت کرنے کا فیصلہ
پاکستان نے افغانستان کو دہشت گرد حملوں پر سخت احتجاج کر دیا، ویزہ پالیسی سخت کرنے کا فیصلہ! آپریشن غضب الحق کے تحت 28-29 جون کو 29 دہشت گرد ہلاک، افغان ناظم الامور کو شدید احتجاجی مراسلہ، 10 جولائی سے بغیر ویزے کے افغان شہریوں کی گرفتاری کا اعلان
یوتھ ویژن نیوز: (اسلام آباد)– پاکستان نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو پریس بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد سیکیورٹی فورسز نے آپریشن "غضب الحق” کے تحت انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ 28 جون کو ضلع باجوڑ میں چار دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جن میں ایک اہم خوارج کمانڈر خان فروش عرف زبال بھی شامل تھا، جبکہ دیگر کا تعلق بھارت کے حمایت یافتہ گروہ جماعت الاحرار سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ 29 جون کو افغانستان کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کر کے کراچی دہشت گرد حملے پر سخت احتجاجی مراسلہ (ڈیمارش) دیا گیا۔ اسی نوعیت کا احتجاجی مراسلہ پاکستان کے سفیر عبید الرحمٰن نظامانی نے بھی افغان وزارت خارجہ کے حکام کو دیا۔
افغان سرزمین کا دہشت گردی کے لیے استعمال اور پاکستان کا احتجاج
ترجمان نے کہا کہ یہ احتجاج اس لیے کیا گیا کیونکہ کراچی حملے میں افغان شہری ملوث تھے، جن میں ایک حملہ آور کو زندہ گرفتار کیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ یہ ایک بار پھر اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان سرزمین اور افغان شہری پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان نے افغان حکام کو سنگین تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے لیے افغان سرزمین اور افغان شہریوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے مطالبہ کیا کہ افغان حکام دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کریں اور یقینی بنائیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے پائے۔
10 جولائی سے بغیر ویزے کے افغان شہریوں کی گرفتاری کا اعلان
ترجمان نے مزید کہا کہ وزارت داخلہ نے ہدایت جاری کی ہے کہ 10 جولائی سے پاکستان میں بغیر کارآمد ویزے کے مقیم کسی بھی افغان شہری کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ سیکیورٹی خدشات اور افغان شہریوں کی دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شواہد کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر کسی بھی غیر قانونی طور پر مقیم شخص کو برداشت نہیں کرے گا اور تمام افغان شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ویزے کی حیثیت کو قانونی بنائیں ورنہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
آپریشن غضب الحق کے تحت جاری کارروائیاں
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے آپریشن غضب الحق کے تحت پاک افغان سرحدی علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ 28 اور 29 جون کی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 29 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جن میں باجوڑ میں 4 دہشت گرد (بشمول کمانڈر خان فروش) اور پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں فضائی کارروائیوں میں 25 دہشت گرد شامل ہیں۔
پاکستان نے کہا ہے کہ عزم استحکام کے وژن کے تحت انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں تب تک جاری رہیں گی جب تک غیر ملکی حمایت سے پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں بند نہیں ہو جاتیں۔