سعودی فٹبال فیڈریشن کے صدر نے قومی ٹیم کے فیفا ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر استعفیٰ دے دیا

یوتھ ویژن نیوز : (ریاض) – سعودی عرب کی قومی فٹبال ٹیم کے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پہلے مرحلے ہی میں باہر ہونے کے بعد سعودی فٹبال فیڈریشن کے صدر یاسر المسحل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ورلڈ کپ کے اگلے مرحلے میں رسائی حاصل نہ کرنا قومی ٹیم اور قوم کی توقعات کے مطابق نہیں تھا اور وہ اس ناکامی کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "میں ان تمام افراد سے معذرت خواہ ہوں جو ہماری ٹیم کو بہتر مقام پر دیکھنے کے خواہش مند تھے۔ ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ نئی قیادت کو آگے آنے کا موقع دیا جائے، اسی لیے میں نے اپنی مدت مکمل ہونے سے قبل عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔”

گروپ ایچ میں ناقص کارکردگی اور ناکامی کی تفصیلات

سعودی عرب گروپ ایچ میں صرف دو پوائنٹس کے ساتھ آخری پوزیشن پر رہا۔ ٹیم نے یوراگوئے کے خلاف 1-1 سے ڈرا کھیلا، ورلڈ کپ میں پہلی مرتبہ شریک ہونے والی کیپ وردے کے خلاف بغیر کسی گول کے برابر رہی جبکہ گروپ کے آخری میچ میں مضبوط حریف اسپین نے اسے 4-0 سے شکست دی۔

یہ سعودی عرب کی مسلسل تیسری ورلڈ کپ میں شرکت تھی تاہم تین مرتبہ ایشیائی چیمپئن رہنے والی ٹیم 1994 کے بعد پہلی بار ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل نہ کرسکی۔

استعفیٰ اور ذمہ داری قبول کرنے کا فیصلہ

یاسر المسحل گزشتہ سات برس سے سعودی فٹبال فیڈریشن کے سربراہ تھے۔ ان کی قیادت میں سعودی عرب نے 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی، جسے مملکت کی اقتصادی تنوع کی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔

انہوں نے اپنے استعفیٰ کے فیصلے کو قوم کی توقعات پوری نہ کرنے کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس ناکامی کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ ان کے استعفیٰ کو سعودی فٹبال میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کوچنگ تبدیلیاں اور 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے باوجود ناکامی

ورلڈ کپ سے قبل مارچ میں دوستانہ میچز میں ناقص کارکردگی کے باعث فرانسیسی کوچ ہروے رینارڈ کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ رینارڈ نے اطالوی کوچ روبرٹو مانچینی کی جگہ دوسری مرتبہ سعودی ٹیم کی کوچنگ سنبھالی تھی تاہم ان کی واپسی بھی ٹیم کی کارکردگی بہتر نہ بنا سکی۔

گزشتہ تین برسوں کے دوران سعودی عرب نے فٹبال کے شعبے میں تقریباً 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس دوران عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو، نیمار اور کریم بنزیما کو سعودی پرو لیگ کا حصہ بنایا گیا، جس کے بعد لیگ دنیا کی سب سے زیادہ مالی فوائد دینے والی فٹبال لیگوں میں شمار ہونے لگی۔

مستقبل کی راہ اور سعودی فٹبال پر اثرات

ماہرین کے مطابق استعفیٰ کے بعد سعودی فٹبال فیڈریشن میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ 2034 ورلڈ کپ کی میزبانی کے پیش نظر سعودی فٹبال کو ایک منظم حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

یہ دیکھنا ہوگا کہ نئی قیادت سعودی فٹبال کو کس طرح آگے لے کر جاتی ہے اور کیا وہ قومی ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو پاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں