پاکستانی ایکٹوسٹ سعد ایڈھی اسرائیلی بحریہ کے حملے کے بعد رہا
یوتھ ویژن نیوز : (استنبول ) پاکستانی فلاحی کارکن سعد ایڈھی، جو ایڈھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایڈھی کے صاحبزادے ہیں، کو اسرائیلی فوجی حراست سے دیگر سول سوسائٹی رضاکاروں کے ہمراہ رہا کر دیا گیا ہے۔ دورانِ حراست مبینہ طور پر انہیں نیند سے محروم رکھنے اور دیگر ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ رہائی کے بعد وہ بحفاظت استنبول، ترکی پہنچ گئے ہیں۔
اسرائیلی بحریہ نے 18 مئی کو بین الاقوامی پانیوں میں غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کو روک کر 430 سے زائد رضاکاروں کو حراست میں لے لیا تھا۔ ان میں پاکستان سے سعد ایڈھی بھی شامل تھے۔ بین الاقوامی سطح پر شدید مذمت اور سفارتی کوششوں کے بعد تمام گرفتار رضاکاروں کو 21 مئی کو رہا کر دیا گیا۔
430 سے زائد رضاکاروں کی گرفتاری
’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ 54 کشتیوں پر مشتمل تھا جو 39 ممالک کے 426 رضاکاروں کو لے کر ترکی کے مرمارس بندرگاہ سے 15 مئی کو غزہ کے لیے روانہ ہوا تھا۔ اس مشن کا مقصد غزہ کے عوام تک خوراک، ادویات اور بچوں کے فارمولے سمیت امدادی سامان پہنچانا تھا۔
ایڈھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایڈھی نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے بیٹے سعد کا آخری رابطہ ان کی والدہ سے ہوا تھا، جس میں انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی افواج نے انہیں ’اغوا‘ کر لیا ہے۔ مشن مکمل طور پر رضاکارانہ تھا اور عطیات سے فنڈ کیا گیا تھا۔
اسرائیلی حکام نے اس کارروائی کو غزہ کی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ ناکہ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسرائیلی بحریہ نے کشتیوں کو جنوبی اسرائیل کی بندرگاہ اشدود تک لے جا کر رضاکاروں کو حراست میں لے لیا۔
پاکستان کا سخت ردعمل اور سفارتی کوششیں
پاکستان کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی کارروائی کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی پانیوں میں انسانی امدادی قافلے کو روکے جانے اور رضاکاروں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی شدید مذمت کرتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان تمام غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے رضاکاروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وزارت خارجہ اردن میں موجود پاکستانی سفارتی مشن کے ذریعے سعد ایڈھی کی رہائی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ذاتی طور پر اس معاملے کی نگرانی کی اور ترکی، مصر اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ رابطہ کیا۔ انہوں نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ مربوط سفارتی کوششوں کے نتیجے میں سعد ایڈھی اور دیگر حراست میں لیے گئے انسانی کارکنوں کو رہا کروا لیا گیا ہے۔ انہوں نے کارکنوں کی بحفاظت واپسی پر ترکی کی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ایک مشترکہ سفارتی محاذ
پاکستان واحد ملک نہیں تھا جس نے اسرائیلی کارروائی پر ردعمل دیا۔ 19 مئی کو پاکستان، ترکی، بنگلہ دیش، برازیل، کولمبیا، انڈونیشیا، اردن، لیبیا، مالدیپ اور اسپین کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی گئی۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام حراست میں لیے گئے رضاکاروں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کے حقوق اور وقار کا مکمل احترام کیا جائے۔
رہائی اور ترکی کی کردار
انٹرنیشنل ایڈوکیسی گروپ ’عدالہ‘ نے تصدیق کی کہ اسرائیلی جیل سروس کی طرف سے تمام غیر ملکی رضاکاروں کو رہا کر کے ملک بدر کرنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ ترک حکام نے بتایا کہ رہا ہونے والے رضاکاروں کو ترکی لایا جا رہا ہے، جہاں سے وہ اپنے اپنے ممالک روانہ ہوں گے۔
سعد ایڈھی سمیت تمام رہا ہونے والے رضاکار 21 مئی کو بحفاظت استنبول پہنچ گئے۔ اسرائیلی نیشنل سیکیورٹی وزیر اتمار بین گویر کی طرف سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں حراست میں لیے گئے رضاکاروں کو گھٹنوں کے بل ہاتھ باندھے دکھایا گیا تھا، جسے متعدد ممالک نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔
سعد ایڈھی کی رہائی پر ان کے والد فیصل ایڈھی نے پاکستانی حکومت، دفتر خارجہ اور ترکی کی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کے بیٹے کی واپسی پر پورے خاندان کو سکون ملا ہے۔