امریکی سینیٹ نے ایران کی ناکہ بندی ختم کرنے اور فوجی انخلا کی قرارداد منظور کر لی

امریکی سینیٹ نے ایران کی ناکہ بندی ختم کرنے اور فوجی انخلا کی قرارداد منظور کر لی

یوتھ ویژن نیوز : (واشنگٹن ڈی سی) – ایران پالیسی پر ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف ایک اہم پیشرفت میں، امریکی سینیٹ نے ایران کے گرد قائم امریکی ناکہ بندی ختم کرنے اور عسکری کارروائیوں کے تسلسل کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی قرار دینے والی قرارداد منظور کر لی ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ سینیٹ نے 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد ایسی قرارداد کو آگے بڑھایا ہے جو ایران کے خلاف مستقبل میں مزید امریکی فوجی کارروائیوں کو کانگریس کی منظوری سے مشروط کر سکتا ہے۔

ووٹنگ کی تفصیلات اور چار ریپبلکن سینیٹرز کی بغاوت

قرارداد 50 ووٹوں کے مقابلے میں 47 ووٹوں سے کامیاب ہوئی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق چار ریپبلکن سینیٹرز نے اپنی جماعت سے الگ ہو کر ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔

ان سینیٹرز میں شامل ہیں:

  • سوسان کولنز (مین)
  • لیسا مرکووسکی (الاسکا)
  • رینڈ پاؤل (کینٹکی)
  • بل کیسیڈی (لوزیانا)

ڈیموکریٹک صفوں میں صرف ایک سینیٹر جان فیٹرمین نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔

بل کیسیڈی کی حمایت نے سیاسی حلقوں کو حیران کر دیا کیونکہ چند روز قبل ہی وہ اپنی جماعت کے پرائمری انتخاب میں شکست کھو چکے ہیں، جہاں صدر ٹرمپ نے ان کے مخالف امیدوار کی حمایت کی تھی۔

قرارداد کی شرائط اور قانونی حیثیت

قرارداد کے تحت:

  • ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے باضابطہ منظوری لینا ضروری ہوگی
  • امریکی بحریہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کی جائے گی
  • 1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت صدر کو 60 دنوں سے زائد عسکری کارروائی جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی

آگے کا راستہ اور سیاسی مضمرات

اب اس معاملے پر سینیٹ میں باقاعدہ بحث اور حتمی ووٹنگ ہوگی۔ اگرچہ یہ قرارداد ابھی قانون نہیں بنی، لیکن یہ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف ایک اہم علامتی کامیابی اور ریپبلکن صفوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کا ثبوت ہے۔

ریپبلکن قیادت نے فی الحال اس قرارداد کو روکنے کی کوشش نہیں کی، تاہم حتمی ووٹنگ کے موقع پر ایوان نمائندگان اور ممکنہ صدارتی ویٹو جیسی رکاوٹیں ابھی باقی ہیں۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے یکم مئی کو اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ہو چکی ہے، تاہم امریکی افواج اب بھی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور ایرانی جہازوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس قرارداد کی منظوری کو کانگریس کی جانب سے ایگزیکٹو برانچ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں