پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کے کمیشن نے باضابطہ کام شروع کر دیا—پہلا اجلاس منعقد
یوتھ ویژن نیوز: ( ڈائریکٹر ڈیجیٹل میڈیا علی رضا سے) حکومتِ پاکستان کی جانب سے صحافیوں کے مسائل کے حل اور میڈیا ورکروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قائم کمیشن فار دی پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز نے باقاعدہ کام کا آغاز کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی خصوصی کاوشوں سے کمیشن کے ممبران کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد کمیشن کا پہلا اجلاس کمال الدین ٹیپو کی صدارت میں منعقد ہوا، جسے حکومت کی جانب سے عالمی معیار کی پالیسیوں اور بہترین پریکٹسز کے تحت تشکیل دیا گیا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کمیشن صحافیوں کے آزادانہ، محفوظ اور خود مختارانہ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے مکمل شفافیت کے ساتھ کام کرے گا، جبکہ شکایات کا نظام مرتب کر دیا گیا ہے اور قواعد و ضوابط کی تیاری کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔
ڈیجیٹل ویب پورٹل، ٹریننگ اور سیمینارز—کمیشن کے اولین اقدامات
کمیشن نے فیصلہ کیا کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹائزیشن کو ترجیح دیتے ہوئے ایک ویب پورٹل متعارف کرایا جائے گا، جب کہ میڈیا پروفیشنلز کے لیے ٹریننگ سیشنز اور آگاہی سیمینارز بھی منعقد کیے جائیں گے۔
ملکی صحافتی تنظیموں کی نمائندگی
اجلاس میں پرنسپل انفارمیشن آفیسر، ڈی جی ہیومن رائٹس کمیشن اور ملک بھر کی مرکزی صحافتی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے بورڈ ممبران نواز رضا، خلیل احمد، طاہر حسن، نوید اکبر، حسن عباس، تمثیلہ قریشی اور نادیہ صبوحی نے شرکت کی اور کمیشن کے آئندہ لائحہ عمل پر تجاویز پیش کیں۔