میرا قائد عمران خان فوجی آپریشن کے خلاف تھا، ہم بھی اس کے مخالف ہیں ،نو منتخب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا اسمبلی میں پہلا خطاب
پشاور (یو تھ وژن نیوز) :خیبر پختونخوا کے نئے وزیرِاعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے حلف اٹھانے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں واضح اعلان کیا کہ وہ اپنے قائد عمران خان کی پالیسی پر قائم ہیں اور ملٹری آپریشن کے سخت مخالف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا حل آپریشن نہیں بلکہ مذاکرات ہیں، کیونکہ دنیا بھر کے ممالک اب مسائل کو طاقت نہیں بلکہ بات چیت سے حل کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔
نو منتخب وزیرِاعلیٰ نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا،
”میرا قائد عمران خان ملٹری آپریشن کے خلاف تھا، تو ہم بھی اس کے بالکل خلاف ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کا اصل حل عوامی اعتماد، سیاسی استحکام اور معاشی خوشحالی میں ہے۔“
پی ٹی آئی کے محمد سہیل آفریدی 90 ووٹ لے کر نئے وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا منتخب
انہوں نے کہا کہ جو فیصلے عوام اور قبائلی علاقوں کو ساتھ لیے بغیر کیے جائیں وہ پائیدار نہیں ہو سکتے۔
”جہاں بھی آپریشن کرنے ہیں، وہاں کے عمائدین اور عوام کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ پاکستان مزید داخلی تقسیم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔“
عمران خان سے وفاداری اور عوامی نمائندگی
سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اپنے لیڈر عمران خان کے بے حد مشکور ہیں جنہوں نے ایک عام مڈل کلاس کارکن کو اس منصب تک پہنچایا۔
”میرے نام کے ساتھ نہ بھٹو ہے، نہ زرداری۔ میں نے یہ مقام اپنی محنت سے حاصل کیا۔ میرے قائد نے قبائلی عوام کو بااختیار بنایا اور اُنہیں عزت دی۔“
انہوں نے کہا کہ یہ کرسی ان کے لیے مقصد نہیں، خدمت کا موقع ہے۔
”میں یہ عہدہ اپنے لیڈر اور عوام کی امانت سمجھتا ہوں۔ اگر مقصد سے ہٹا تو یہ کرسی لات مار دوں گا۔“
قبائلی عوام اور پالیسی اصلاحات
سہیل آفریدی نے اپنی تقریر میں قبائلی اضلاع کے مسائل پر خصوصی توجہ دینے کا وعدہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں قبائل کو دانستہ طور پر پیچھے رکھا گیا اور وسائل اُن تک نہیں پہنچے۔
”میرے قائد نے ہمیشہ کہا کہ قبائل پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ہم ان کے لیے وعدے پورے کریں گے اور محرومیوں کا ازالہ کریں گے۔“
انہوں نے اعلان کیا کہ صوبائی حکومت قبائلی علاقوں میں بجلی اور تعلیم کے منصوبے خود اپنے وسائل سے مکمل کرے گی۔
مزید کہا کہ ایک لاکھ پچاس ہزار گھروں کو سولر انرجی پر منتقل کیا جائے گا تاکہ عوام کو لوڈشیڈنگ اور بلوں کے بوجھ سے نجات مل سکے۔
افغان پالیسی پر نظرِ ثانی
وزیرِاعلیٰ نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغان مہاجرین سے متعلق پالیسی میں انسانی پہلو کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
”افغان بہن بھائی چالیس سال سے یہاں ہیں، اب اُنہیں دھکے مار کر نکالنا ظلم ہے۔ اس طرح پالیسیاں نہیں بنتیں۔“
ان کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور کے دور میں افغان مہاجرین کے لیے خوراک اور قیام کے انتظامات کیے گئے تھے، اور یہی حقیقی انسانی پالیسی ہے۔
”ہم وفاق سے کہیں گے کہ جو بھی افغان پالیسی بنائیں، اُس میں خیبر پختونخوا کے عوام اور نمائندوں کو اعتماد میں لیں۔“
میڈیا، کارکنان اور تحریک انصاف
سہیل آفریدی نے اپنی تقریر میں میڈیا کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
”میں ان صحافیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے حق کے لیے اپنی نوکریاں گنوائیں، اور شہید ارشد شریف کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے سچ کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔“
انہوں نے تحریکِ انصاف کے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین عمران خان کی رہائی ان کی اولین ترجیح ہے۔
”آج سے ہم اپنے قائد کی آزادی کے لیے اقدامات کا آغاز کر رہے ہیں۔ اگر چیئرمین کی جیل کو ان کی فیملی کی مرضی کے بغیر تبدیل کیا گیا تو پورے پاکستان کو جام کر دوں گا۔“
9 مئی، دھاندلی اور سیاسی مؤقف
انہوں نے 9 مئی کے واقعات کو تحریک انصاف کے خلاف سازش قرار دیا اور کہا کہ ان واقعات کو بہانہ بنا کر پارٹی کارکنوں کو دبایا گیا۔
”9 مئی پی ٹی آئی کے خلاف بدنامی کا منصوبہ تھا۔ ہمارے کارکنوں کو احتجاج پر مارا گیا۔ لیکن عوام نے آٹھ فروری کو چیئرمین کے حق میں فیصلہ دیا۔“
انہوں نے کہا کہ وہ کامن ویلتھ رپورٹ تمام ارکان کو بھجوائیں گے تاکہ انتخابی دھاندلی کی حقیقت سامنے آ سکے۔
قبائل اور عوامی فلاح کے منصوبے
وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ وہ احساس ماں پروگرام کے تحت حاملہ خواتین کو مالی مدد فراہم کریں گے۔
”اگر بیٹی پیدا ہوئی تو تین ماہ کا خرچہ حکومت دے گی۔ ہم خواتین کو تحفظ اور عزت دیں گے۔“
انہوں نے اعلان کیا کہ اساتذہ کی کمی والے علاقوں میں نئی بھرتیاں ہوں گی، ہیلتھ کارڈ نظام کو بہتر بنایا جائے گا، اور ضم اضلاع میں موٹر وے اور ایکسپریس وے منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔
”ہم اپنی نوجوان نسل کو تعلیم، کھیل اور روزگار کے مواقع فراہم کریں گے تاکہ کے پی کے حقیقی ترقی کر سکے۔“
اپوزیشن کو پیغام
اپنی تقریر کے اختتام پر سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کے خواہشمند ہیں، مگر صوبے کے مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
”ہم سب کا مقصد عوام کی خدمت ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن صوبے کی ترقی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔“