یومِ اقبال — خودی، غیرت اور عمل کا پیغام جو آج بھی زندہ ہے
تحریر: اشعر قریشی
بانی – بنو ہاشم کنسلٹنٹ گروپ
PR ماہر | بزنس موٹیویٹر | سماجی کارکن
تعارف
اشعر قریشی ایک متحرک، وژنری اور سماجی و کاروباری سرگرمیوں میں پیش پیش شخصیت ہیں، جو معاشرے کی فکری و معاشی بہتری کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ آپ کا مقصد نوجوانوں میں فکری بیداری، پیشہ ورانہ رہنمائی اور اخلاقی تربیت کے ذریعے ایک مضبوط، باوقار اور باصلاحیت پاکستان کی تعمیر ہے۔ آپ کا کام صرف کاروباری ترقی تک محدود نہیں بلکہ سماجی خدمت، قومی شعور اور اجتماعی بہتری تک پھیلا ہوا ہے۔
یوتھ ویژن نیوز: آج 9 نومبر، یومِ اقبال کے موقع پر قوم عظیم مفکر، شاعرِ مشرق اور حکیمُ الامت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو خراجِ عقیدت پیش کر رہی ہے، جنہوں نے غلام ذہنوں کو آزادی کی روشنی دکھائی، ایمان و خودی کا درس دیا اور ایک ایسی فکری تحریک کی بنیاد رکھی جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو قومِ واحد کی حیثیت میں بیدار کیا۔ اقبالؒ کا پیغام آج بھی اُسی شدت سے زندہ ہے—ایک ایسا پیغام جو انسان کو خود شناسی، کردار کی بلندی اور عمل کے جہاد کی دعوت دیتا ہے
اقبالؒ کی شاعری اور فلسفہ محض الفاظ نہیں بلکہ ایک انقلابی نظریہ ہے، جو نوجوان نسل کو اپنی اصل پہچان، دینِ حقیقی اور روحانی خودمختاری کی طرف بلاتا ہے۔ اقبالؒ نے “خودی” کو انسان کے اندر وہ قوت قرار دیا جو غلامی، مایوسی اور جمود کو توڑ سکتی ہے۔ ان کے نزدیک ایک مسلمان کا وقار اُس کے ایمان، غیرت اور مسلسل جدوجہد میں پوشیدہ ہے۔
یومِ اقبال دراصل ایک موقع ہے کہ ہم اجتماعی طور پر یہ سوچیں کہ کیا ہم نے اقبالؒ کے پیغام کو اپنی قومی اور ذاتی زندگی میں جذب کیا ہے؟ کیا ہماری تعلیم، سیاست، معیشت اور سماجی رویے اُس خودی کے فلسفے کے مطابق ڈھل رہے ہیں جس کی دعوت اقبالؒ نے دی تھی؟
اقبالؒ نے ضربِ کلیم میں فرمایا:
”خود دار نہ ہو فقر تو ہے قہرِ الٰہی
ہو صاحبِ غیرت تو ہے تمہیدِ امیری!
افرنگ زِ خود بے خبرت کرد وگرنہ
اے بندۂ مومن! تو بشیری! تو نذیری!“
یہ اشعار آج بھی اُسی طرح گونجتے ہیں جیسے اُس دور میں جب اقبالؒ نے غلام ذہنوں کو خودی کی شمع دکھائی تھی۔ ان کا فلسفہِ خودی دراصل اُس اجتماعی شعور کی بنیاد ہے جو انسان کو خالق سے جوڑتا ہے اور قوم کو استقلال عطا کرتا ہے۔
یومِ اقبال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اگر ہم اقبالؒ کے پیغام کو صرف تقریروں اور ادبی نشستوں تک محدود رکھیں تو یہ احسان فراموشی کے مترادف ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل کو اقبالؒ کی فکر سے جوڑا جائے تاکہ اُن کے اندر خودی کی وہ آگ بھڑک سکے جو قوموں کو دنیا کی صفِ اوّل میں لا کھڑا کرتی ہے۔
علامہ اقبالؒ کا خواب ایک ایسے پاکستان کا تھا جو فکری طور پر آزاد، اخلاقی طور پر مضبوط اور علمی طور پر خود کفیل ہو۔ اُن کی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ ترقی صرف معیشت یا طاقت کے بل پر ممکن نہیں بلکہ روحانی، فکری اور اخلاقی بنیادوں پر قائم عدل و انصاف کے نظام سے حاصل ہوتی ہے۔
یومِ اقبال کا اصل پیغام یہی ہے — ایمان، عمل، اور خودی کا وہ تسلسل جو مومن کو غیرت مند، آزاد اور سرخرو بناتا ہے۔