وینزویلا پر امریکی کارروائی بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی، اقوام متحدہ کا انتباہ

“اقوام متحدہ کا انتباہ: وینزویلا پر امریکی کارروائی بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی”

یوتھ ویژن نیوز : (علی رضا سے)اقوام متحدہ نے وینزویلا پر امریکی کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور تمام ممالک سے قانون کی پاسداری کی اپیل کی۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں وینزویلا پر امریکی کارروائی کے خلاف شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے 3 جنوری کو وینزویلا میں امریکی حملے اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری پر گہری تشویش ظاہر کی۔ گوتریس نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا، اور کہا کہ کسی بھی ریاست کے خلاف طاقت یا دھمکی کا استعمال اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت سخت ممنوع ہے، جو اس کیس میں نظرانداز کیا گیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں : پاکستان نے وینزویلا میں کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کر دیا

سیکریٹری جنرل نے واضح کیا کہ امریکی اقدام نے اقوامِ متحدہ کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز کیا، جن میں ریاست کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور سرحدی سالمیت شامل ہیں۔ گوتریس نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جامع، پرامن اور جمہوری مکالمے کے ذریعے مسائل حل کریں اور بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کو فوقیت دیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ تبھی ممکن ہے جب تمام ممالک چارٹر اور دیگر قانونی فریم ورک کی پابندی کریں۔

اقوامِ متحدہ کے اجلاس کے دوران مختلف ممالک کے ردعمل ملے جلے تھے۔ بعض نے امریکی اقدام کی سخت مخالفت کی اور اسے عالمی امن کے لیے خطرناک مثال قرار دیا، جبکہ کچھ نیٹو ممالک نے قانونی حدود کی اہمیت پر زور دیا، اگرچہ انہوں نے امریکہ کو براہِ راست تنقید کا نشانہ نہیں بنایا۔

عالمی ماہرین نے بھی اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا، کیونکہ امریکی آپریشن یو این کی منظوری کے بغیر، وینزویلا کی اجازت کے بغیر، اور کسی حقیقی دفاعی ضرورت کے بغیر کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت فوجی مداخلت صرف اقوامِ متحدہ کی منظوری یا حقیقی دفاعی حالات میں جائز ہوتی ہے، جو اس معاملے میں موجود نہیں تھی۔

یاد رہے کہ امریکی اسپیشل فورس کے اہلکاروں نے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو ان کے بیڈ روم سے اُٹھا کر ہیلی کاپٹر کے ذریعے بحری جہاز تک منتقل کیا۔ بعد ازاں انہیں امریکہ پہنچایا گیا، جہاں آج نیویارک کی ایک فیڈرل عدالت میں پیش کیا گیا۔ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ پر منشیات دہشت گردی، کوکین کی سپلائی اور امریکہ کے خلاف سازش کے متعدد الزامات ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی نے عالمی سطح پر ریاستی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے اصولوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق، کسی بھی ملک کی سرحد میں غیر قانونی مداخلت عالمی امن کے لیے خطرہ ہے اور اس طرح کے اقدامات دیگر ممالک کے لیے بھی نازیبا مثال قائم کرتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں زور دیا گیا کہ بحران کے حل کے لیے صرف طاقت کے استعمال پر انحصار مناسب نہیں، بلکہ سب فریقین کو قانونی، پرامن اور جمہوری مکالمے کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ سیکریٹری جنرل نے کہا کہ امریکہ سمیت تمام ممالک کو عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ مستقبل میں ایسے غیر قانونی اقدامات کی روک تھام ممکن ہو۔

اس واقعے کے بعد عالمی میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مختلف ممالک کی حکومتوں نے بھی اس اقدام کی مذمت کی اور وینزویلا کے عوام کی حفاظت اور سیاسی آزادی کے تحفظ پر زور دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس کارروائی سے عالمی سیاسی توازن پر بھی اثر پڑا ہے اور بین الاقوامی تعلقات میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں