کویت میں امریکی فضائیہ کے 3ایف-15 طیارے گر کر تباہ

کویت میں 3 امریکی ایف-15 طیارے گر کر تباہ،

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) کویت میں امریکی فضائیہ کے 3 ایف-15 جنگی طیارے تباہ، سینٹ کام نے کویتی دفاعی نظام کی جانب سے ‘غلطی سے’ گرانے کی تصدیق کر دی۔

واشنگٹن/کویت سٹی: مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے دوران ایک غیر معمولی عسکری واقعہ سامنے آیا ہے جہاں امریکی مرکزی کمان (CENTCOM) نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ کویت میں اس کے تین ایف-15 (F-15E Strike Eagle) جنگی طیارے تباہ ہو گئے ہیں۔ اتوار کے روز پیش آنے والے اس واقعے کے حوالے سے سینٹ کام نے اعتراف کیا ہے کہ یہ طیارے ایران کے خلاف مشن پر مامور تھے، جنہیں کویتی فضائی دفاعی نظام نے "غلطی” سے نشانہ بنایا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے بعد جاری ہونے والے اس بیان نے خطے میں اتحادی افواج کے درمیان رابطوں اور دفاعی ہم آہنگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

‘فرینڈلی فائر’ اور پائلٹس کی بحفاظت واپسی

امریکی سینٹ کام کی جانب سے ‘ایکس’ (ٹویٹر) پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ طیارے گرنے کے باوجود خوش قسمتی سے فضائی عملے کے تمام 6 ارکان بحفاظت طیاروں سے ایجیکٹ (باہر نکلنے) میں کامیاب رہے۔ تمام اہلکاروں کو بحفاظت بازیاب کر لیا گیا ہے اور ان کی طبی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ کویت نے اس واقعے کو تسلیم کر لیا ہے اور امریکی فوج جاری آپریشنز میں کویتی دفاعی افواج کے تعاون کی مشکور ہے۔ اس واقعے کو عسکری اصطلاح میں "فرینڈلی فائر” قرار دیا گیا ہے، جہاں دفاعی نظام اپنے ہی اتحادی طیاروں کو دشمن سمجھ کر نشانہ بنا لیتا ہے۔

واقعے کی تحقیقات اور علاقائی اثرات

واضح رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں سے کویت کے آسمان سے ایک جلتا ہوا طیارہ گرنے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل تھی، جس کے بعد امریکی حکام نے خاموشی توڑتے ہوئے اس نقصان کی تصدیق کی۔ سینٹ کام کا کہنا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے اعلیٰ سطح کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق، یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں فضائی ٹریفک اور میزائل دفاعی نظام انتہائی ہائی الرٹ پر ہیں، جس کی وجہ سے شناخت کے عمل میں غلطی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

کویتی دفاعی نظام اور مشترکہ آپریشنز

کویتی دفاعی افواج اور امریکی سینٹ کام کے درمیان قریبی روابط ہونے کے باوجود یہ حادثہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی پروٹوکولز پر نظرثانی کا باعث بن سکتا ہے۔ تحقیقاتی ٹیمیں اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا یہ حادثہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہوا یا انسانی غلطی نے اسے جنم دیا۔ یوتھ ویژن کے قارئین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ایف-15 طیارہ امریکی فضائیہ کا ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے اور ایک ہی وقت میں تین طیاروں کا نقصان ایک بڑا مالی اور عسکری دھچکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں