سندھ میں کانگو وائرس سے سال کی پہلی ہلاکت، مویشی فارم کا 17 سالہ نوجوان جاں بحق

سندھ میں کانگو وائرس سے سال کی پہلی ہلاکت اور نمایاں تصویر

یوتھ ویژن نیوز : (سیف الرحمن سے) صوبہ سندھ میں رواں سال Crimean-Congo Hemorrhagic Fever (کانگو وائرس) سے پہلی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے، جہاں 17 سالہ نوجوان جان کی بازی ہار گیا۔

ذرائع کے مطابق متاثرہ نوجوان ٹنڈو آدم میں مویشی فارم پر کام کرتا تھا اور ابتدائی طور پر اسے بخار اور خون بہنے کی شکایات کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا۔

اسپتالوں میں علاج اور منتقلی

مریض کو پہلے Jinnah Postgraduate Medical Centre (JPMC) لایا گیا، جہاں ابتدائی معائنے کے بعد اسے سندھ انفیکشنز ڈیزیز ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹر یحییٰ تنیو کے مطابق مریض میں کانگو وائرس کی علامات ظاہر ہو رہی تھیں، جس پر اسے آئسولیشن میں رکھا گیا۔

ٹیسٹ اور تصدیق

مریض کے نمونے Aga Khan University Hospital بھیجے گئے جہاں ٹیسٹ مثبت آیا، جس کے بعد اسے مزید علاج کے لیے منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔

وائرس کیسے پھیلتا ہے؟

World Health Organization کے مطابق کانگو وائرس ایک خطرناک بیماری ہے جو شدید خون بہنے والے بخار کا سبب بنتی ہے اور اس کی شرح اموات 40 فیصد تک ہو سکتی ہے۔

وائرس کیسے پھیلتا ہے؟

یہ وائرس عام طور پر ٹِکس (کیڑے) اور مویشیوں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، جبکہ متاثرہ شخص کے خون یا جسمانی رطوبتوں سے قریبی رابطے کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔

ویکسین اور احتیاط

ماہرین کے مطابق اس وائرس اور بیماری کی فی الحال کوئی ویکسین دستیاب نہیں، اس لیے احتیاطی تدابیر، خاص طور پر مویشیوں کے قریب کام کرنے والے افراد کے لیے، نہایت ضروری ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں