حکومت کی مذاکرات کی پیشکش، عمران خان آمادہ نہیں: رانا ثنااللہ

رانا ثنااللہ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات پر مؤقف بیان کر رہے ہیں۔

یوتھ ویژن نیوز : رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لے کر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کی، مگر عمران خان آمادہ نہیں۔

اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مذاکرات کی باضابطہ پیشکش کی، تاہم حکومت کو واضح طور پر اندازہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اس عمل میں سنجیدہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے یہ پیشکش نہ صرف اپنی جماعت کی قیادت بلکہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی اعتماد میں لے کر کی، تاکہ مذاکرات کسی ابہام یا غلط فہمی کے بغیر آگے بڑھ سکیں۔

رانا ثنااللہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اس امر کو یقینی بنایا کہ مذاکراتی عمل آئینی دائرہ کار، جمہوری اقدار اور ریاستی مفادات کے مطابق ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی نیت پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کیونکہ موجودہ حالات میں سیاسی مکالمہ ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ملک کو درپیش معاشی اور سیاسی بحرانوں سے نکالا جا سکتا ہے۔

رانا ثنااللہ: مذاکرات کی پیشکش موجود، مگر عمران خان سنجیدہ نہیں

اسلام آباد ہائی کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں سے متعلق سوال پر رانا ثنااللہ نے کہا کہ عدالت نے ملاقاتوں کا باقاعدہ طریقہ کار طے کیا ہے، جس کے تحت ملاقات کے بعد سیاسی سرگرمیوں، پریس کانفرنسوں یا ہنگامہ آرائی کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ ملاقاتوں کے بعد سیاسی بیانات، شور شرابا اور بعض اوقات تصادم کی صورتحال پیدا ہوتی رہی، جس کے پیش نظر عدالتی ہدایات پر سختی سے عمل ضروری ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے عدالت کو یقین دہانی کروائی تھی کہ طے شدہ طریقہ کار کی مکمل پاسداری کی جائے گی۔ ان کے مطابق اگر ملاقاتوں میں قانون کے مطابق عمل کیا جائے تو حکومت یا جیل حکام کی جانب سے کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر جیل حکام عدالتی احکامات پر عمل نہیں کر رہے تو اپوزیشن کو قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے، نہ کہ سیاسی دباؤ پیدا کیا جائے۔

اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی سے متعلق بات کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ حکومت کی نیت شفاف ہے اور اس معاملے پر کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی نظام میں اپوزیشن کا کردار تسلیم شدہ ہے اور حکومت جمہوری روایات کے مطابق تمام اقدامات کر رہی ہے۔

رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ جب وزیراعظم نے مذاکرات کی پیشکش کی تو پی ٹی آئی کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ وزیراعظم کے پاس اختیار نہیں، حالانکہ وزیراعظم نے اسٹیبلشمنٹ اور پارٹی قیادت دونوں کو اعتماد میں لے کر یہ پیشکش کی تھی۔ انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ اگر وہ واقعی مسائل کا حل چاہتے ہیں تو مذاکرات کی میز پر آئیں۔

انہوں نے کہا کہ اب اپوزیشن کی جانب سے یہ بیانیہ سامنے آ رہا ہے کہ جیسے ہی وہ احتجاجی تحریک کا اعلان کرتی ہے، حکومت مذاکرات کی بات شروع کر دیتی ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ ان کی تحریک کامیاب ہونے والی ہے اور حکومت انہیں کسی سیاسی جال میں پھنسانا چاہتی ہے، تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔

سینیئر مسلم لیگ (ن) رہنما کا کہنا تھا کہ اپوزیشن 5 فروری کو پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر چکی ہے، حکومت اس پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے اور اپوزیشن کو حق حاصل ہے کہ وہ پرامن احتجاج کرے، تاہم ریاستی اداروں سے ٹکراؤ کسی صورت ملک کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن احتجاج کے بعد بھی مذاکرات پر آمادہ ہوتی ہے تو حکومت بات چیت کے لیے دروازے بند نہیں کرے گی۔

رانا ثنااللہ نے بانی پی ٹی آئی کے طرزِ سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب عمران خان اقتدار میں تھے تو وہ اپوزیشن سے بات کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے، جبکہ آج وہ خود اپوزیشن میں ہیں تو مذاکرات کی شرائط عائد کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست سے تصادم کی پالیسی سے نہ صرف سیاسی نقصان ہوتا ہے بلکہ جمہوری عمل بھی کمزور پڑتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان عدم اعتماد کی فضا کے باعث مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہے، جبکہ ملک کو درپیش معاشی مشکلات، مہنگائی اور گورننس کے مسائل فوری سیاسی استحکام کے متقاضی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فریقین نے لچک نہ دکھائی تو سیاسی ڈیڈلاک مزید گہرا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پارلیمانی نظام اور عوامی اعتماد پر پڑنے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن کی احتجاجی حکمت عملی اور حکومت کی مذاکراتی پیشکش کے باعث ملکی سیاست ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں آنے والے دنوں میں کیے جانے والے فیصلے نہ صرف موجودہ سیاسی منظرنامے بلکہ مستقبل کی سیاسی سمت کا بھی تعین کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں