ایران میں حملے، پاکستان اسٹاک مارکیٹ کریش، 16 ہزار پوائنٹس کی کمی
یوتھ ویژن نیوز : (عمراسحاق چشتی سے) ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کا شکار، کے ایس ای 100 انڈیکس میں 16 ہزار پوائنٹس کی تاریخی کمی، ٹریڈنگ معطل۔
کراچی: مشرق وسطیٰ میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے پاکستان کی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں پیر کے روز کاروبار کے آغاز کے ساتھ ہی شدید مندی دیکھنے میں آئی اور کے ایس ای 100 انڈیکس تاریخ کی بدترین گراوٹ کا شکار ہوگیا۔
کاروبار کے ابتدائی لمحات میں فروخت کا غیر معمولی دباؤ سامنے آیا جس کے نتیجے میں انڈیکس 15,121 پوائنٹس گر کر 1 لاکھ 52 ہزار 940 کی سطح پر آ گیا۔ بعد ازاں مندی کا رجحان برقرار رہا اور اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 16,089 پوائنٹس کی کمی کے بعد 1 لاکھ 51 ہزار 774 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اس دوران مجموعی طور پر مارکیٹ 9.29 فیصد گر گئی۔
مارکیٹ ہالٹ کیوں لگا؟
شدید مندی اور 9 فیصد سے زائد کمی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی انتظامیہ نے ‘مارکیٹ ہالٹ’ نافذ کرتے ہوئے ٹریڈنگ کو عارضی طور پر معطل کر دیا۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام سرمایہ کاروں کو مزید نقصان سے بچانے اور مارکیٹ میں استحکام لانے کے لیے کیا گیا۔
مارکیٹ ہالٹ اس وقت نافذ کیا جاتا ہے جب انڈیکس مخصوص حد سے زیادہ گر جائے، تاکہ پینک سیلنگ کو روکا جا سکے اور سرمایہ کار جذباتی فیصلوں سے بچ سکیں۔
پینک سیلنگ اور سرمایہ کاروں کا ردعمل
ایران پر حملوں کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور ممکنہ علاقائی جنگ کے خدشات نے مقامی سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس پیدا کیا۔ نتیجتاً ‘پینک سیلنگ’ کا رجحان بڑھا اور بڑی تعداد میں حصص فروخت کیے گئے۔
بینکنگ، آئل اینڈ گیس، سیمنٹ اور پاور سیکٹر سمیت تقریباً تمام بڑے شعبے شدید دباؤ کا شکار رہے۔ سرمایہ کاروں نے خطرات سے بچنے کے لیے سرمایہ محفوظ اثاثوں کی جانب منتقل کرنا شروع کر دیا۔
عالمی تیل مارکیٹ اور پاکستان پر اثرات
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی خطے میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان جیسے درآمدی معیشت رکھنے والے ملک کے لیے شدید معاشی دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔اگر عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا ہوتا ہے تو پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات، بجلی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے، جس سے مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
معاشی ماہرین کیا کہتے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں اس غیر معمولی مندی کی بنیادی وجہ جیو پولیٹیکل تناؤ ہے۔ جب بھی خطے میں جنگی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو سرمایہ کار غیر یقینی کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ آتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو پاکستان کی معیشت پر اس کے طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً زرمبادلہ کے ذخائر، درآمدی بل اور روپے کی قدر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
آئندہ کا منظرنامہ
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آئندہ چند روز تک پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ صورتحال کا دارومدار مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی کے ردعمل پر ہوگا۔
اگر سفارتی کوششوں کے ذریعے تناؤ کم کیا گیا تو مارکیٹ میں بحالی کے آثار پیدا ہو سکتے ہیں، بصورت دیگر سرمایہ کاروں کو مزید محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی۔