پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر قیمت میں 5 روپے اضافہ نوٹیفکیشن جاری

petrol-diesel-price-increase-pakistan-latest-update

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) حکومت نے ایک بار پھر پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کرتے ہوئے عوامی حلقوں کو حیران کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے مقرر کردی گئی ہے، جو اس سے قبل 253 روپے 17 پیسے تھی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 7 روپے 32 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے اور نئی قیمت 275 روپے 70 پیسے ہوگئی ہے۔

سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قیمتوں میں ردوبدل آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ آئندہ 15 روز کے لیے نافذ العمل ہوگا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اقدام ناگزیر تھا۔

پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے اور ڈیزل میں 7 روپے 32 پیسے اضافہ

دوسری جانب معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست مہنگائی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں ممکنہ اضافہ، اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر دباؤ اور سپلائی چین کی لاگت میں اضافہ ایسے عوامل ہیں جو آنے والے دنوں میں عام شہری کی مشکلات بڑھا سکتے ہیں، خصوصاً رمضان المبارک کی آمد سے قبل یہ فیصلہ عوامی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔

بازاروں میں تاجروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ڈیزل کی نئی قیمت سے مال برداری کے اخراجات بڑھیں گے جس کے اثرات سبزی، پھل اور دیگر ضروری اشیا پر منتقل ہوسکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے جہاں صارفین کی بڑی تعداد حکومت سے ریلیف اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہے۔

ماہرین معاشیات کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی نرخوں، ٹیکسز اور لیوی پالیسی سے منسلک ہے، تاہم طویل المدتی توانائی اصلاحات کے بغیر قیمتوں میں استحکام ممکن نہیں۔ اگر عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی آتی ہے تو آئندہ جائزے میں عوام کو ریلیف ملنے کی توقع کی جاسکتی ہے، بصورت دیگر مہنگائی کا دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

فی الحال پیٹرول کی نئی قیمتوں کے نفاذ کے بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر ملکی معیشت اور عوامی بجٹ پر اثرانداز ہونے والا اہم معاملہ بن چکا ہے، جس کے اثرات آئندہ چند روز میں مارکیٹ میں واضح طور پر دیکھے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں