اپوزیشن قومی کانفرنس:مفاہمت کے بجائے مزاحمت پر اتفاق

اپوزیشن قومی کانفرنس میں سیاسی رہنما، وکلا اور صحافی آئینی بالادستی اور مزاحمت کے حق میں خطاب کرتے ہوئے

یوتھ ویژن نیوز : (واصب ابراہیم سے) تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے تحت منعقدہ اپوزیشن قومی کانفرنس میں سیاسی رہنماؤں، وکلا، صحافیوں اور سول سوسائٹی نے موجودہ سیاسی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مفاہمت کے بجائے مزاحمت کی حکمتِ عملی اپنانے پر اتفاق کیا۔ شرکاء نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کے تحفظ اور آئینی بالادستی کے لیے منظم جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے اور اس مقصد کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی، جاوید ہاشمی اور دیگر مقررین نے انتخابی عمل، عدالتی معاملات اور آئینی ترامیم پر تنقید کی۔ وکلا اور صحافیوں نے عدلیہ کی آزادی، اظہارِ رائے پر قدغنوں اور پیکا ایکٹ جیسے قوانین پر تحفظات ظاہر کیے، جبکہ سیاسی رہنماؤں نے پارلیمان کے کردار کو محدود کرنے کی کوششوں کی مذمت کی۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ مجموعی جمہوری نظام کا مسئلہ ہیں، جس کے حل کے لیے پرامن مگر بھرپور عوامی مزاحمت ضروری ہے۔ **سلمان اکرم راجہ**، **اسد قیصر** اور دیگر رہنماؤں نے اسٹریٹ موومنٹ، آئینی جدوجہد اور سیاسی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ صحافیوں اور سول سوسائٹی نے اختلافی آوازوں کے تحفظ کو جمہوریت کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں