اسرائیل کا تہران میں صدارتی کمپاؤنڈ پر بڑا حملہ،متضاد اطلاعات

اسرائیل کا تہران میں صدارتی کمپاؤنڈ پر بڑا حملہ، ایرانی قیادت کو ختم کرنے کی کوشش، نئے وزیرِ دفاع کی ہلاکت کی متضاد اطلاعات

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) اسرائیل کا تہران میں صدارتی کمپاؤنڈ پر بڑا حملہ، ایرانی قیادت کو ختم کرنے کی کوشش، نئے وزیرِ دفاع کی ہلاکت کی متضاد اطلاعات موصول۔

تہران/تل ابیب: مشرقِ وسطیٰ میں جاری خونریز تصادم اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع انتہائی حساس "سپریم لیڈر شپ کمپاؤنڈ” کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اس کمپاؤنڈ میں ایرانی صدر کا دفتر، مرکزی حکومت کے دفاتر اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کی اہم عمارتیں موجود ہیں۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران پہلے ہی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ عسکری قیادت کی شہادت کے صدمے سے گزر رہا ہے۔ اسرائیل کے ان مسلسل حملوں کا واضح مقصد ایران کے فیصلہ ساز اداروں اور اعلیٰ قیادت کو براہِ راست مفلوج کرنا ہے۔

نئے وزیرِ دفاع کی شہادت کے متضاد دعوے

اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے ایک سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے قائم مقام وزیرِ دفاع، جنرل ماجد ابن الرضا، اپنی تعیناتی کے محض 24 گھنٹوں بعد ایک فضائی حملے میں مارے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ پیر کے روز ہی ایرانی صدر نے انہیں اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے سابق وزیرِ دفاع کی جگہ مقرر کیا تھا۔ تاہم، اس دعوے کی تاحال نہ تو ایران نے تصدیق کی ہے اور نہ ہی کسی آزاد بین الاقوامی ادارے نے اسے تسلیم کیا ہے۔ مبصرین اسے نفسیاتی جنگ کا حصہ بھی قرار دے رہے ہیں جس کا مقصد ایرانی دفاعی صفوں میں مایوسی پھیلانا ہے۔

صدر ٹرمپ کا ‘تین ہفتوں’ کا فوجی منصوبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایران پر جاری ان حملوں کے مقاصد کے مکمل حصول میں کم از کم 3 ہفتے لگ سکتے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی افواج کے اس مشترکہ آپریشن، جسے ‘ایپک فیوری’ کا نام دیا گیا ہے، کا مقصد ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کے ساتھ ساتھ اس کے سیاسی ڈھانچے کو بھی کمزور کرنا ہے۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ حکومتی ترجمان نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ملکی خود مختاری اور اندرونی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت قرار دیا ہے۔

ایران میں عبوری کونسل اور عالمی تشویش

آیت اللہ خامنہ ای اور آرمی چیف سمیت اعلیٰ حکام کی شہادت کے بعد، ایران کے حکومتی امور اس وقت ایک عبوری کونسل کے سپرد ہیں جو نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک ریاستی نظام چلائے گی۔ بین الاقوامی برادری، بشمول اقوامِ متحدہ، نے تہران میں صدارتی دفتر پر حملے کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو خطے میں تشدد کی ایسی لہر اٹھے گی جسے قابو کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ یوتھ ویژن کی ٹیم اس بدلتی ہوئی صورتحال پر لمحہ بہ لمحہ نظر رکھے ہوئے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں