ایران میں پرتشدد مظاہروں کے بیچ چیف جسٹس کی سخت وارننگ، احتجاج 78 شہروں تک پھیل گیا

ایران میں مظاہرین سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے، چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی کی وارننگ کے پس منظر میں

یوتھ ویژن نیوز : ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی نے مظاہرین کو سخت وارننگ دی، پرامن احتجاج کے جائز مطالبات سنے جائیں گے، لیکن تخریب کاری کی کوئی گنجائش نہیں۔

تہران: ایران میں معاشی بحران اور ریال کی تاریخی گراوٹ کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی نے عوام کو سخت وارننگ جاری کی ہے۔ عدلیہ کے سربراہ نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج کرنے والوں کے جائز مطالبات سنے جائیں گے، لیکن تخریب کار عناصر اور ان کے حامیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل اور صوبائی پراسیکیوٹرز کو ہدایات جاری کیں کہ قانون کی سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ملک میں افراتفری پھیلانے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی عدلیہ عوامی احتجاج اور شرپسندی میں واضح فرق کرتی ہے، اور پرامن مظاہروں کو مسترد نہیں کیا جائے گا۔

ایران میں معاشی مشکلات، مہنگائی میں اضافہ، اور ریال کی قدر میں مسلسل کمی کے خلاف نویں روز بھی مظاہرے جاری ہیں، جو اب ملک کے 78 شہروں تک پھیل چکے ہیں۔ عوام کی بڑی تعداد نے حکومت سے معاشی اصلاحات اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

چیف جسٹس کے بیان کے بعد پارلیمنٹ کے اسپیکر نے بھی عوامی مطالبات کی قانونی شکل میں تسلیم کرنے اور بیرونی سازشوں کو ناکام بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اسپیکر کا کہنا تھا کہ عوامی احتجاج کے جائز مطالبات کا احترام کیا جائے گا، لیکن ملک میں غیر ملکی مداخلت یا افراتفری کی کوششوں کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران میں موجودہ مظاہرے اقتصادی دباؤ اور روزمرہ کی مشکلات کے نتیجے میں شدت اختیار کر چکے ہیں، اور عدلیہ کی سخت ہدایات سے حکومت کی طرف سے مظاہرین کے خلاف کارروائی میں اضافہ متوقع ہے۔ مظاہرین کی بڑی تعداد ریال کی قدر میں کمی، مہنگائی، اور معاشی بحران کے حل کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہے۔

ایران کی عدلیہ اور حکومت نے واضح کیا ہے کہ پرامن احتجاج کی آزادی کو یقینی بنایا جائے گا، لیکن کسی بھی قسم کے تخریب کار یا پرتشدد اقدامات کو سختی سے روکا جائے گا، تاکہ ملک میں امن و استحکام قائم رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں