آئی ایم ایف کی 5300 ارب کرپشن رپورٹ پر سینیٹ کا دھماکہ — حکومت سے فوری جواب طلب
یوتھ ویژن نیوز:(مظہر اسحاق چشتی سے) سینیٹ خزانہ کمیٹی نے آئی ایم ایف کی کرپشن رپورٹ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور اداروں سے جواب طلب کیا اور بڑے اسکینڈلز پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے آئی ایم ایف کی پاکستان میں کرپشن اور گورننس سے متعلق رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے سخت سوالات کیے۔
چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت اجلاس میں اراکین نے حکومت سے پوچھا کہ رپورٹ میں جن محکموں میں بڑے پیمانے پر گھپلے ظاہر کیے گئے، ان کے خلاف آج تک کیا کارروائی ہوئی۔
پاکستان میں گورننس اور کرپشن کے مسائل برقرار، آئی ایم ایف کی سخت رپورٹ جاری
اجلاس کے دوران سینیٹر دلاور خان نے انکشاف کیا کہ آئی ایم ایف نے تقریباً 5300 ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی کی ہے۔آئی ایم ایف کی لاہور میں ایف بی آر کے ایک افسر سے متعلق سنگین واقعہ بھی بیان کیا جس نے مبینہ طور پر ریفنڈز میں کرپشن کے لیے حصہ مانگا اور انکار پر فائرنگ تک کردی۔ اس ہولناک واقعے پر چیئرمین اور اراکین نے سخت حیرت اور غم و غصے کا اظہار کیا، جبکہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ معاملہ آئندہ اجلاس میں تفصیل سے زیر بحث لایا جائے گا۔
وزارت خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ رپورٹ اکثر ان نکات پر مشتمل ہے جن پر حکومت پہلے ہی اصلاحات کر رہی ہے، اور یہ کہ ڈائیگناسٹک رپورٹ مسائل کی تشخیص کے لیے آئی ایم ایف کے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔ حکام نے کہا کہ بہتر گورننس کے لیے دیا گیا ایکشن پلان 6 سے 10 ماہ میں مکمل کرنا ہوگا۔ اجلاس میں اراکین نے ایس آئی ایف سی کی کارکردگی، معاہدوں کی کمی اور معاشی کمزوریوں پر بھی سخت تنقید کی۔