سانحہ گل پلازہ: 40 جاں بحق افراد کی شناخت ناممکن، ڈی این اے کے محدود نمونے حاصل

گل پلازہ سانحہ: جاں بحق افراد کی باقیات کی شناخت میں مشکلات، لواحقین اور مزدور احتجاج کرتے ہوئے

یوتھ ویژن نیوز : (عمران قذافی سے) گل پلازہ کے الم ناک سانحے میں جاں بحق 40 افراد کی شناخت ناممکن ہوگئی، ڈی این اے کے نمونے محدود ہونے کی وجہ سے صرف چند افراد کی شناخت ممکن، لواحقین اور متاثرہ مزدوروں نے احتجاج کیا۔

کراچی: گل پلازہ کے الم ناک سانحے میں جاں بحق ہونے والے تقریباً 40 افراد کی شناخت کے امکانات ختم ہو گئے۔ سانحے کے 12 دن گزر جانے کے بعد بھی عمارت سے ملنے والی باقیات میں سے ڈی این اے کے نمونے حاصل کرنا ممکن نہیں، جس کے نتیجے میں صرف 4 سے 5 افراد کی شناخت کے نتائج آنے کی توقع ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق، گل پلازہ میں شدید آگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 6 افراد کی لاشیں مکمل تھیں اور ایک شہری کی شناخت اس کے قومی شناختی کارڈ کی مدد سے ہوئی تھی۔ آگ پر قابو پانے کے بعد سرچ آپریشن کے دوران ریسکیو اہلکاروں نے سوختہ لاشیں اور باقیات نکال کر اسپتال منتقل کیں، تاہم شناخت کے عمل میں شدید چیلنجز سامنے آئے۔

سانحہ گل پلازہ :سندھ حکومت نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے لیے فی خاندان 1 کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کر دیا

سانحہ کے بعد جاں بحق افراد کے لواحقین کی صبر کی حدیں لبریز ہو گئی ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے مرنے والوں کی شناخت کے لیے پولیس سرجن ڈپارٹمنٹ سے رابطہ کیا، تاکہ ڈی این اے کے ذریعے ان کے پیاروں کی شناخت مکمل ہو سکے۔ اب تک جاں بحق ہونے والے 72 افراد میں سے 27 کی شناخت مکمل ہو چکی ہے، جن میں سے 20 افراد کی شناخت ڈی این اے، 6 کی چہرہ شناسی اور ایک کی شناخت شناختی کارڈ کی مدد سے ممکن ہوئی۔

سی پی ایل سی شناخت پروجیکٹ کے سربراہ عامر حسن نے بتایا کہ عمارت میں کئی گھنٹوں تک آگ کے شعلے دہکتے رہے اور موجود افراد کے جسم حتیٰ کہ ہڈیاں تک جل کر راکھ میں بدل گئے، جس کے باعث 40 افراد کی شناخت کے امکانات ختم ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ صرف 4 سے 5 افراد کے ڈی این اے کے نتائج آنے کی توقع ہے۔

عامر حسن نے مزید بتایا کہ پولیس سرجن ڈپارٹمنٹ اور سی پی ایل سی نے جاں بحق افراد کے اینٹی موٹم ڈیٹا، ویڈیوز، موبائل فون ڈیٹا، لوکیشن، کپڑوں اور ذاتی اشیاء کی معلومات ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی کو فراہم کر دی ہیں، تاکہ ناقابل شناخت باقیات کو اہل خانہ کے حوالے کرنے کے لیے سفارشات تیار کی جا سکیں۔

سانحہ کے بعد لاپتا افراد کے اہل خانہ نے گل پلازہ کی مخدوش عمارت کے سامنے احتجاج کیا اور شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ لواحقین کا کہنا تھا کہ 12 روز گزرنے کے باوجود ان کے پیارے لاپتا ہیں، اور وہ نہیں جانتے کہ کس کے در پر جائیں۔ احتجاج کے دوران پولیس نے مداخلت کی، لیکن ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سٹی عارف عزیز اور ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو موقع پر پہنچ کر لواحقین کو تسلی دی اور اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔

ڈی سی ساؤتھ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے شناخت کے عمل کے دوران لاشیں لواحقین کو فراہم کی جا رہی ہیں، اور جیسے جیسے شناخت مکمل ہوگی، ورثا کو میتیں دی جائیں گی۔

دریں اثنا، گل پلازہ میں کام کرنے والے روزانہ مزدور بھی ڈی سی آفس کے باہر احتجاج کرتے ہوئے حکومت اور مخیر حضرات سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔ متاثرہ مزدوروں نے کہا کہ ہم روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے لوگ ہیں، ہمارا کوئی پرسان حال نہیں، اور اب ہمارا مستقبل غیر یقینی ہے۔ انہوں نے حکومت اور مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ متاثرہ مزدوروں کی فوری مدد کریں۔

یہ سانحہ نہ صرف لواحقین کے لیے صدمے کا باعث بنا ہے بلکہ شناخت کے عمل میں موجود پیچیدگیوں اور متاثرہ مزدوروں کی مشکلات نے بھی عوامی توجہ کا مرکز بنادیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں