پمز نرسری آتشزدگی: 14 نومولود کی ہلاکت کی اصل وجوہات سامنے آگئیں

پمز نرسری آتشزدگی: 14 نومولود کی ہلاکت کی اصل وجوہات سامنے آگئیں

یوتھ ویژن نیوز : (عمران قذافی سے) پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری میں 26 اگست 2026 کو لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت نے ملک بھر میں تشویش پیدا کردی تھی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر قائم انکوائری کمیٹی نے واقعے کے فوری ردعمل، فائر سیفٹی، انخلا کے انتظامات، طبی عملے کی موجودگی اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دستیاب انکوائری رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ سانحہ کسی ایک ناکامی کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی حفاظتی اور انتظامی کمزوریوں کے مجموعے سے تباہ کن شکل اختیار کر گیا۔

آگ کتنی تیزی سے پھیلی؟

انکوائری میں CCTV ریکارڈ کو واقعے کی ترتیب جاننے کے لیے اہم ترین شواہد میں شامل کیا گیا۔ ریکارڈ کے مطابق تقریباً صبح 6 بج کر 38 منٹ 15 سیکنڈ پر نرسری میں ہنگامی صورتحال واضح ہوئی۔ چارج نرس نسرین نے مدد طلب کی، جس کے فوراً بعد سکیورٹی گارڈ اور دیگر عملہ نرسری میں داخل ہوا۔ اسٹاف نرس رضیہ نورین نے چند ہی سیکنڈز میں ایک نومولود کو باہر نکالا اور دوبارہ اندر جانے کی کوشش کی۔

تقریباً 6:39 بجے کے بعد نرسری دھویں سے اس قدر بھر گئی کہ CCTV کی منظر کشی بھی متاثر ہوگئی۔ کمیٹی کے مطابق تقریباً دو منٹ کے اندر اندر حالات انتہائی خطرناک شکل اختیار کرچکے تھے۔ اس بنیاد پر رپورٹ نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ فرنٹ لائن طبی اور سکیورٹی عملے نے نومولود بچوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا۔

آگ لگنے کی وجہ کیا تھی؟

آگ کے عین ابتدائی منبع کے بارے میں انکوائری میں تکنیکی احتیاط اختیار کی گئی ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق مختلف امکانات میں ایئر کنڈیشننگ یونٹ، انکیوبیٹر یا وارمر اور برقی خرابی شامل تھی۔ بیرونی بجلی کی سپلائی میں کسی فوری خرابی یا فیڈر ٹرپنگ کا ثبوت نہیں ملا، جس کے باعث تحقیقات کا رخ پمز کے اندرونی برقی نظام، وائرنگ، ساکٹس، پلگ اور متعلقہ آلات کی طرف گیا۔

یعنی ابتدائی طور پر سامنے آنے والے ’’شارٹ سرکٹ‘‘ کے دعوے کو قطعی حتمی سبب قرار دینا محتاط صحافتی انداز نہیں ہوگا۔ رپورٹ نے واضح کیا کہ آگ کے پہلے شعلے کی درست تکنیکی وجہ اور کسی مخصوص فرد کی فوجداری ذمہ داری کے تعین کے لیے مزید فرانزک اور تکنیکی تحقیقات ضروری ہیں۔

اصل سوال: آگ تباہ کن کیوں بنی؟

انکوائری کے اہم ترین نکات میں یہ بات سامنے آئی کہ نرسری میں فائر سیفٹی اور ہنگامی انخلا کے نظام میں نمایاں کمزوریاں موجود تھیں۔ رپورٹ کے مطابق نومولود بچوں کے لیے ایسا باقاعدہ، تربیت یافتہ عملے کے ذریعے مشق شدہ اور مخصوص ایمرجنسی انخلا کا نظام ثابت نہیں ہوسکا جس کے ذریعے انتہائی نازک حالت میں موجود بچوں کو فوری طور پر محفوظ مقام تک منتقل کیا جاسکتا۔

نرسری میں موجود بچے طبی طور پر انتہائی حساس تھے اور متعدد نومولود آکسیجن یا سانس کی معاونت پر انحصار کر رہے تھے۔ اس صورتحال میں عام مریضوں کی نسبت ان کا انخلا کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔ محدود افرادی قوت اور خصوصی ریسکیو وسائل کی عدم دستیابی نے بھی صورتحال کو مزید مشکل بنایا۔

فائر الارم اور حفاظتی نظام کہاں تھا؟

رپورٹ میں فائر سیفٹی انفرااسٹرکچر پر بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے۔ انکوائری کے مطابق نرسری میں خودکار دھویں کی نشاندہی، الارم اور اسپرنکلر جیسے نظام کے مؤثر وجود یا فعال ہونے کا قابل اعتماد ثبوت نہیں ملا۔ ایمرجنسی راستوں، فائر فائٹنگ آلات، ہنگامی اطلاع اور ریسپانس کمانڈ کے نظام میں بھی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔

اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پمز میں صرف چند ہفتے پہلے، 6 جولائی کو نرسنگ ہاسٹل میں آگ لگ چکی تھی۔ اس واقعے کی تحقیقات میں بھی فائر ڈیٹیکشن، الارم، برقی معائنہ، انخلا، فائر ڈرلز اور ہنگامی منصوبہ بندی سے متعلق خامیوں کی نشاندہی ہوئی تھی۔ انکوائری کمیٹی نے قرار دیا کہ پہلے واقعے کے بعد سامنے آنے والے خطرات کو جامع اور قابل تصدیق اصلاحی اقدامات میں تبدیل نہیں کیا گیا۔

بیرونی امداد میں تاخیر بھی سوال بن گئی

انکوائری میں ایمرجنسی اطلاع اور بیرونی امداد کے ردعمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق آگ تقریباً 6:38 بجے نمایاں ہوئی جبکہ بیرونی امداد سے متعلق کارروائی بعد میں فعال ہوئی۔ کمیٹی نے اس وقفے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پمز میں ایسا مؤثر Incident Command System ثابت نہیں ہوسکا جو آگ کی اطلاع ملتے ہی الارم، بیرونی مدد، انخلا، خطرے پر قابو پانے اور امدادی کارروائیوں کو مربوط انداز میں فعال کرتا۔

فرنٹ لائن عملہ ذمہ دار تھا یا نظام؟

رپورٹ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے فرنٹ لائن عملے اور ادارہ جاتی ذمہ داری میں فرق رکھا۔ CCTV سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض اہلکاروں نے فوری طور پر بچوں کو بچانے کی کوشش کی، جبکہ ایک نرس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک نومولود کو باہر نکالا۔ اس لیے صرف اس بنیاد پر ان اہلکاروں کو ذمہ دار قرار دینا مناسب نہیں کہ سانحہ کے نتائج انتہائی تباہ کن رہے۔

دوسری جانب کمیٹی نے ادارہ جاتی سطح پر فائر سیفٹی، تربیت، انخلا، برقی حفاظت، نگرانی اور سابقہ تنبیہات پر بروقت عملدرآمد میں ناکامیوں کو سنجیدہ معاملہ قرار دیا۔

مزید تحقیقات اور اصلاحات کی سفارش

کمیٹی نے اسپتال کے حساس حصوں میں فوری فائر، لائف سیفٹی اور برقی آڈٹ، فائر ڈیٹیکشن اور الارم سسٹم، فائر فائٹنگ آلات، ایمرجنسی لائٹنگ اور محفوظ راستوں کی جانچ کی سفارش کی۔ انکیوبیٹرز، وارمرز، ایئر کنڈیشننگ سسٹم، ساکٹس، پلگ، بریکرز، ارتھنگ اور دیگر حساس برقی تنصیبات کے تکنیکی معائنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

قومی سطح پر بھی پمز سانحے کے بعد حکومت نے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت دی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واقعے کے اثرات ایک اسپتال تک محدود نہیں رہے۔

14 نومولود کی ہلاکت کا بڑا سبق

پمز نرسری کا سانحہ اس حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ ہسپتال میں آگ کے خطرے سے صرف آگ بجھانے کے آلات موجود رکھ کر نہیں نمٹا جاسکتا۔ خاص طور پر نومولود بچوں کے یونٹس میں محفوظ برقی نظام، خودکار فائر ڈیٹیکشن، فوری الارم، قابل استعمال ایمرجنسی راستے، تربیت یافتہ عملہ، باقاعدہ مشقیں اور واضح کمانڈ سسٹم زندگی اور موت کے درمیان فرق ثابت ہوسکتے ہیں۔

انکوائری کے مطابق 14 نومولود کی موت کو صرف ایک برقی خرابی یا ایک لمحے کی کوتاہی سے جوڑنا مکمل تصویر نہیں ہوگی۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایسے متعدد حفاظتی انتظامات کیوں موجود نہیں تھے، کمزور کیوں تھے یا پہلے سے شناخت کیے گئے خطرات کے باوجود مؤثر طور پر نافذ کیوں نہیں کیے گئے۔ یہی وہ ادارہ جاتی سبق ہے جس پر عملدرآمد آئندہ ایسے سانحے کی روک تھام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں