اسرائیلی میڈیا میں ٹرمپ-اردوغان قربت پر تشویش، ایف-35 طیاروں کی ممکنہ فروخت پر خدشات
اسرائیلی میڈیا نے ٹرمپ اور اردوغان کی ملاقات کے بعد ترکی کو ایف-35 طیاروں کی ممکنہ فروخت پر خدشات ظاہر کیے، جبکہ امریکی قانون اور کانگریس کی رکاوٹیں برقرار ہیں۔
یروشلم (یوتھ ویژن نیوز مانیٹرنگ ڈسک ): اسرائیلی میڈیا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ترک صدر رجب طیب اردوغان کے درمیان حالیہ ملاقات کے بعد امریکا کی ترکی سے متعلق پالیسی میں ممکنہ تبدیلی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مختلف اسرائیلی اخبارات اور تجزیہ کاروں نے بالخصوص ترکی کو ایف-35 جنگی طیاروں کی ممکنہ فروخت کو خطے کی سلامتی اور عسکری توازن کے تناظر میں اہم قرار دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کی تشویش
8 جولائی کو شائع ہونے والی رپورٹس میں اسرائیلی اخبارات نے ٹرمپ اور اردوغان کی ملاقات کو نمایاں کوریج دی۔ روزنامہ یدیوت احرونوت کے تجزیہ نگار نادو ایال نے لکھا کہ اگر امریکا ترکی کے ساتھ دفاعی تعاون میں وسعت دیتا ہے تو اس کے خطے کی طاقت کے توازن پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اخبار نے ٹرمپ کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے ترکی کو عسکری اعتبار سے ایک مضبوط ملک قرار دیا تھا۔
نیتن یاہو کا مؤقف
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ترکی کو جدید جنگی طیاروں کی فراہمی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول ایسی حکومت کو جدید ہتھیار فراہم نہیں کیے جانے چاہییں، جس کے ساتھ اسرائیل کے شدید سیاسی اور سکیورٹی اختلافات موجود ہوں۔
امریکی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی؟
اسرائیلی سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی حالیہ پالیسی سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ واشنگٹن نیٹو کے رکن ممالک کے ساتھ تعلقات کو نئی ترجیح دے رہا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ترکی کو ایف-35 طیاروں کی فراہمی اب بھی امریکی قوانین، کانگریس کی منظوری اور دیگر قانونی تقاضوں سے مشروط ہے۔
دائیں بازو کے حلقوں کا ردعمل
اسرائیل کے بعض دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ترکی کو جدید ایف-35 طیارے فراہم کیے گئے تو اس سے خطے میں دفاعی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شام اور مشرقی بحیرہ روم میں جاری علاقائی کشیدگی کے تناظر میں یہ معاملہ مزید حساس ہو سکتا ہے۔
قانونی اور سفارتی رکاوٹیں برقرار
اگرچہ ٹرمپ اور اردوغان کے درمیان حالیہ ملاقات کو دونوں ممالک کے تعلقات میں مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ترکی کو ایف-35 طیاروں کی ممکنہ فروخت کے راستے میں اب بھی متعدد قانونی اور سیاسی رکاوٹیں موجود ہیں۔
امریکی قانون، کانگریس کی ممکنہ مخالفت، ترکی کے روسی ایس-400 دفاعی نظام کی خریداری اور خطے میں جاری سکیورٹی خدشات اس معاملے کو پیچیدہ بنائے ہوئے ہیں۔ اس لیے فی الحال ایف-35 طیاروں کی فروخت سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
سوال: اسرائیلی میڈیا کو کس بات پر تشویش ہے؟
جواب: ترکی کو ایف-35 جنگی طیاروں کی ممکنہ فروخت اور اس کے خطے کی سلامتی پر ممکنہ اثرات پر۔
سوال: کیا امریکا نے ترکی کو ایف-35 فروخت کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے؟
جواب: نہیں، اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا اور معاملہ قانونی و سیاسی مراحل سے مشروط ہے۔
سوال: امریکی قانون اس معاملے پر کیا کہتا ہے؟
جواب: موجودہ قوانین اور کانگریس کی منظوری اس فروخت کے لیے اہم تقاضے ہیں۔
سوال: اسرائیل کی مخالفت کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
جواب: اسرائیلی حکام کے مطابق جدید جنگی طیاروں کی فراہمی سے خطے کے دفاعی توازن پر اثر پڑ سکتا ہے۔
سوال: یہ معاملہ کیوں اہم ہے؟
جواب: کیونکہ اس کا تعلق امریکا، ترکی، اسرائیل، نیٹو اور مشرق وسطیٰ کی علاقائی سلامتی سے ہے۔