برطانیہ نے ریپ کے مجرم شبیر احمد کو پاکستان بھیجنے کے لیے قانون میں تبدیلی کا اعلان کر دیا
یوتھ ویژن نیوز: (لندن ) – برطانوی حکومت نے روچڈیل گرومنگ گینگ کے سرغنہ شبیر احمد کو ملک بدر کرنے کے لیے امیگریشن قوانین میں تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے۔ ہوم سیکریٹری شبانہ محمود 1971 کے امیگریشن ایکٹ میں ترمیم کریں گی تاکہ 73 سالہ سزا یافتہ مجرم کو پاکستان واپس بھیجا جا سکے۔
شبیر احمد، جنہیں متاثرین ’ڈیڈی‘ کہتے تھے، کو گذشتہ ہفتے جیل سے رہا کیا گیا۔ ان کے پاس برطانیہ اور پاکستان کی دوہری شہریت تھی، مگر 2012 میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ ریپ اور جنسی جرائم میں سزا کے بعد ان کی برطانوی شہریت ختم کر دی گئی تھی۔ تاہم 1971 کے امیگریشن ایکٹ کی ایک شق کے تحت انہیں ملک بدر نہیں کیا جا سکتا تھا، کیونکہ وہ 1973 سے پہلے برطانیہ آئے تھے اور پانچ سال سے زائد عرصے سے وہاں مقیم تھے۔
روچڈیل کے ایم پی پال وا نے کہا کہ یہ قانونی تبدیلی متاثرین کو یہ امید دینے کی طرف پہلا قدم ہے کہ انہیں اس مجرم کا پھر کبھی سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگلا قدم پاکستان پر یہ واضح کرنا ہے کہ انہیں شبیر احمد کو واپس لینا ہو گا۔
برطانوی وزیراعظم سر کیئر سٹارمر نے وزیر داخلہ کو اس مقدمے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے ترجمان نے کہا کہ برطانیہ اس معاملے کو اسلام آباد میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ اٹھا چکا ہے اور غیر ملکی مجرموں کو ڈی پورٹ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
متاثرین کا ردعمل:
روچڈیل گینگ کی ایک متاثرہ خاتون، جسے 12 سال کی عمر سے جنسی حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا، نے کہا کہ وہ شبیر احمد کی رہائی کے بعد اپنی سلامتی کے بارے میں خوفزدہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمے کے اختتام پر انہیں بتایا گیا تھا کہ تمام مجرموں کو ملک بدر کر دیا جائے گا، لیکن اب تک ایسا نہیں ہوا۔ ان کے بقول: "ہمیں بار بار ایسے وعدے کیے گئے جو پورے نہیں ہوئے۔”
شبیر احمد کے جرائم:
شبیر احمد نے 2008 سے دو سال تک روچڈیل میں 12 سال تک کی کم عمر لڑکیوں کو الکحل اور منشیات دے کر جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔ ان لڑکیوں کو اجتماعی ریپ کا نشانہ بنایا جاتا اور ٹیکسیوں کے ذریعے مختلف فلیٹس تک لے جایا جاتا تھا۔ عدالت میں انہیں "ایک پرتشدد، منافق غنڈہ” قرار دیا گیا تھا۔
2012 میں لیورپول کراؤن کورٹ نے انہیں 19 سال قید کی سزا سنائی۔ بعد ازاں مانچسٹر کراؤن کورٹ نے انہیں ایک لڑکی کے ساتھ ایک دہائی سے زائد عرصے تک ریپ اور جنسی استحصال کا مجرم قرار دیا۔ استغاثہ کے مطابق شبیر احمد نے متاثرہ لڑکی کو اپنی "ملکیت” کے طور پر استعمال کیا اور اسے باقاعدگی سے ریپ کا نشانہ بنایا۔
قانونی لڑائی:
شبیر احمد نے اپنی سزا اور برطانوی شہریت ختم کیے جانے کے فیصلے کے خلاف متعدد اپیلیں دائر کیں، تاہم سبھی مسترد کر دی گئیں۔ انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف مقدمات مسلمانوں کو ’قربانی کا بکرا‘ بنانے کی سازش تھی، لیکن عدالت نے ان کے دعوے کو مسترد کر دیا۔
پولیس کے مطابق اس گروہ سے متاثر ہونے والی لڑکیوں کی تعداد 50 تک ہو سکتی ہے۔ جج جیرالڈ کلیفٹن نے کہا تھا کہ متاثرین کے ساتھ "ایسا سلوک کیا گیا جیسے وہ بے وقعت ہوں اور کسی احترام کے لائق نہ ہوں۔”
موجودہ صورتحال:
شبیر احمد اس وقت 24 گھنٹے نگرانی والی رہائش گاہ میں ہیں اور جی پی ایس سے منسلک الیکٹرانک ٹیگ پہنے ہوئے ہیں۔ ہوم آفس نے کہا ہے کہ اگر انہوں نے شرائط کی خلاف ورزی کی تو انہیں فوری طور پر دوبارہ جیل بھیج دیا جائے گا۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ شبیر احمد کو ملک بدر کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی، لیکن یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے جس کے اثرات اس مخصوص واقعے سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔