79ویں عالمی صحت اسمبلی کا اختتام، عالمی صحت کے تحفظ کے لیے متعدد قراردادیں منظور

79ویں عالمی صحت اسمبلی کا اختتام، عالمی صحت کے تحفظ کے لیے متعدد قراردادیں منظور

یوتھ ویژن نیوز : (جنیوا) – عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی 79ویں عالمی صحت اسمبلی (WHA79) نے چھ روزہ اجلاس کے بعد اپنے کام کا کامیاب اختتام کر لیا۔ 23 مئی 2026 کو جنیوا میں اختتام پذیر ہونے والے اس اجلاس میں رکن ممالک نے عالمی سطح پر انسانی صحت کے تحفظ کو فروغ دینے کے لیے متعدد اہم قراردادیں منظور کیں۔ اجلاس کا مرکزی موضوع "Reshaping global health: a shared responsibility” (عالمی صحت کی نئی تعمیر: ایک مشترکہ ذمہ داری) تھا۔

رکن ممالک نے 20 سے زائد فیصلے اور 13 قراردادیں منظور کیں

عالمی صحت اسمبلی میں رکن ممالک نے مجموعی طور پر 20 سے زائد فیصلے اور 13 قراردادیں منظور کیں، جن کا تعلق فالج، جگر کی بیماری، تپ دق، اینٹی مائکروبیل مزاحمت (اینٹی بائیوٹک مزاحمت)، ہنگامی طبی نگہداشت، ہیموفیلیا، پریسجن میڈیسن، ڈائیگنوسٹک امیجنگ اور تابکاری جیسے اہم صحت کے شعبوں سے تھا۔

اسمبلی نے گلوبل ہیلتھ آرکیٹیکچر (عالمی صحت کے ڈھانچے) کی اصلاحات پر بھی اتفاق کیا، جو رکن ممالک کی قیادت میں اور ڈبلیو ایچ او کی میزبانی میں ایک مشترکہ عمل کے ذریعے ہوگا۔ اس کے علاوہ، اسمبلی نے "ہیلتھ فار آل اکنامکس اسٹریٹجی” (2026–2030) کو اپنانے کا فیصلہ کیا، جس کا مقصد معاشی نظاموں کو صحت، مساوات اور پائیدار ترقی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔

صحت کے عملے کی بین الاقوامی بھرتی سے متعلق ضابطے میں اہم ترامیم

رکن ممالک نے ڈبلیو ایچ او کے گلوبل کوڈ آف پریکٹس آن دی انٹرنیشنل ریکروٹمنٹ آف ہیلتھ پرسنل میں ترامیم کی منظوری دی۔ 16 سال میں پہلی بار ہونے والی ان ترامیم کا مقصد صحت کے عملے کی بین الاقوامی بھرتی کو مزید اخلاقی بنانا اور ذرائع اور منزل دونوں ممالک کے لیے متوازن فوائد کو یقینی بنانا ہے۔ اس میں کیئر ورکرز کی بین الاقوامی بھرتی سے متعلق دفعات کو بھی شامل کیا گیا۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا قراردادوں کو عملی جامہ پہنانے پر زور

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر تیدروس ادهانوم گیبریسیوس نے اپنے اختتامی خطاب میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ منظور شدہ قراردادوں کو جلد از جلد عملی جامہ پہنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "آپ کی منظور کردہ ہر قرارداد اور ہر معاہدہ اسی وقت اہمیت رکھتا ہے جب وہ کسی کلینک، کسی کمیونٹی یا کسی گھرانے میں تبدیلی لائے۔” انہوں نے مزید کہا کہ عالمی صحت کے اہداف کے حصول کے لیے سیاسی عزم، مستقل مالی اعانت اور رکن ممالک، شراکت داروں اور کمیونٹیز کے درمیان مسلسل تعاون کی ضرورت ہوگی۔

اسمبلی نے فلسطینی علاقوں میں صحت کی صورتحال پر بھی قراردادیں منظور کیں

اسمبلی نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول مشرقی یروشلم میں صحت کی صورتحال سے متعلق دو قراردادیں بھی منظور کیں۔ پہلی قرارداد 89 ممالک کی حمایت سے پاس ہوئی، جس میں غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی اور صحت کی صورتحال کو اجاگر کیا گیا اور مریضوں، طبی عملے اور صحت کی سہولیات کے خلاف خلاف ورزیوں کی دستاویز کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

پاکستان کی شرکت اور کردار

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس اہم اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ انہوں نے اجلاس میں صحت کے شعبے میں قومی ترجیحات اور اصلاحات کو عالمی برادری کے سامنے پیش کیا۔ اس سے قبل وفاقی وزیر صحت کی قیادت میں پاکستانی وفد 18 مئی کو جنیوا پہنچا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں