خواجہ آصف کی پی ٹی آئی قیادت پر کڑی تنقید
یوتھ ویژن نیوز : (واصب ابراہیم غوری سے) خواجہ آصف نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ استثنیٰ پر اعتراض کرنے والے خود ماضی میں ایسے رویوں کے مرتکب رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں خواجہ آصف نے کہا کہ ”ہم تو صرف استثنیٰ دے رہے ہیں، آپ نے تو باجوہ کو باپ بنالیا تھا، اس کی بازگشت آج تک سنائی دے رہی ہے“۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے آئینی ترمیم پر شور مچانا محض سیاسی دوغلاپن ہے۔ خواجہ آصف کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں مخالف جماعتیں اسے پی ٹی آئی کے خلاف حکومتی جارحانہ حکمتِ عملی کا تسلسل قرار دے رہی ہیں۔
مزید پڑھیں : خواجہ آصف کا واضح انتباہ: اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ’ کھلی جنگ‘ کا آپشن موجود ہے
27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد سیاسی ماحول میں ایک بار پھر تلخی دیکھنے میں آئی ہے۔ ترمیم کی منظوری کے فوراً بعد سینیٹر فیصل واوڈا نے بھی پی ٹی آئی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترمیم کے لیے پی ٹی آئی نے خود مدد کی، لیکن اب وہ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ پی ٹی آئی مکمل طور پر بےنقاب ہوچکی ہے، یہ جماعت صرف باتوں کی حد تک بڑی بڑی دعوے کرتی ہے مگر عملی طور پر کچھ نہیں کرتی۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما ہر بار عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے بیانیے بدلتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ خود انہی فیصلوں میں شریک ہوتے ہیں جن پر بعد میں تنقید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے کسی رکن نے بھی آئینی ترمیم کی بحث میں حصہ نہیں لیا، جس سے ان کے سیاسی تضادات عیاں ہوگئے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق خواجہ آصف کی یہ ٹوئٹ اور فیصل واوڈا کے بیانات حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ظاہر کرتے ہیں۔ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بیانات کی جنگ نے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی دونوں جماعتوں کے کارکنان کے درمیان لفظی جھڑپیں جاری ہیں۔ اس صورتحال میں عوامی رائے تقسیم نظر آتی ہے، کچھ افراد حکومتی مؤقف کی تائید کر رہے ہیں تو بعض پی ٹی آئی کے مؤقف کو درست قرار دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی سیاست میں ذاتی حملوں اور الزامات کے بڑھنے سے پارلیمانی روایات مزید کمزور ہو رہی ہیں۔