190 ملین پاؤنڈ کیس کے جج کے خلاف درخواست ناقابلِ سماعت، اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ

ihc-dismisses-petition-190-million-pound-judge

یوتھ ویژن نیوز : (ایڈوکیٹ واصب ابراہیم سے) اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کے جج کے خلاف دائر درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کر دی۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے فیصلہ سنایا اور معاملہ انسپکشن دائرہ اختیار کا قرار دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ نیب کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کے خلاف دائر درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا ہے۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے جمعے کے روز سیشن جج ناصر جاوید رانا کی تعیناتی اور ان کے فرائض کی انجام دہی کو روکنے سے متعلق درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا۔

درخواست شہری اسامہ ریاض نے دائر کی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کی 2004 کی ایک آبزرویشن کی روشنی میں متعلقہ جج کی تعیناتی پر اعتراض موجود ہے، اس لیے انہیں کام سے روک دیا جائے۔ عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعے کو سنایا گیا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سیشن ججز کی تعیناتی یا ان کے خلاف شکایات کے معاملات عمومی طور پر ہائیکورٹ کی انسپکشن ٹیم کو بھیجے جاتے ہیں، اور بظاہر اس نوٹیفکیشن میں کوئی غیر قانونی پہلو دکھائی نہیں دیتا جسے درخواست گزار نے چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کو انسپکشن ٹیم کے پاس بھیجنے پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن درخواست کی نوعیت دائرہ اختیار میں مناسب نہیں بنتی۔

درخواست گزار کے وکیل ریاض حنیف راہی نے مؤقف اپنایا کہ جس جج کی تعیناتی چیلنج کی جا رہی ہے وہ مہنگی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں، لہٰذا عدالت کو اس پہلو کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے دلائل دیتے ہوئے ایک بھارتی فلم “ایک دن کا سی ایم” کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ عدالت اپنی عدالتی طاقت کو بروئے کار لاتے ہوئے اس معاملے کی مزید پڑتال کرے۔

واضح رہے کہ 17 جنوری کو اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت کے دوران احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 190 ملین پاؤنڈ نیب ریفرنس میں فیصلہ سنایا تھا، جس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو 14 سال قید اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ فیصلے نے ملک بھر میں سیاسی اور قانونی بحث کو جنم دیا تھا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد یہ معاملہ بظاہر ہائیکورٹ کی انسپکشن ٹیم کے دائرے میں آتا ہے، تاہم عدالت نے واضح کیا کہ درخواست دائرہ اختیار میں نہ آنے کی وجہ سے ناقابلِ سماعت قرار دی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں