’گل ودھ گئی اے مختاریا‘، شیخ رشید نے بھی ہاتھ کھڑے کردیئے
گل ودھ گئی اے مختاریا‘، شیخ رشید نے حکومت اور اپوزيشن کے درمیان پُل کا کردار ادا کرنے سے انکار کردیا۔
ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ ’بات اب آگے چلی گئی ہے، مختاریا، گل ودھ گئی ہے۔‘
کورونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران مشہور ہونے والا ندیم افضل چن کا یہ جملہ آج کل عدم اعتماد کی ملاقاتوں اور سرگوشیوں میں پھر زبان زد عام ہورہا ہے۔
گذشتہ دنوں چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کےموقع پر پی ٹی آئی سے تحریک انصاف میں آنے والے ندیم افضل چن اور کامران مرتضیٰ کے درمیان اسی دلچسپ مکالمے میں گفتگو ہوئی۔
خیال رہے کہ ندیم افضل چن نے کورونا کے دوران اپنے ساتھی کو گھر میں ہی رہنے کی تلقین کی تھی جو ٹیلی فونک آڈیو ایسی مشہور ہوئی کہ اس پر گیت بنالیا گیا۔دریں اثناء تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل ڈی چوک پر جلسہ کرنےکے معاملے پر وفاقی وزرا میں اختلاف کھل کر سامنے آگیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہےکہ عمران کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ دینے کے لیے اراکین کو 10 لاکھ کے مجمعے سےگزر کر جانا پڑے گا،کس مائی کے لعل میں کلیجہ ہےکہ 10 لاکھ کے مجمعے سےگزرکر عمران خان کے خلاف ووٹ ڈالے اور واپس جائے۔
دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ ہم تو دھرنا دے ہی نہیں رہے ، لوگ وزیراعظم کا نقطہ نظر سن کر منتشر ہوجائيں گے۔
ادھر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے بھی کہا ہےکہ آپ ووٹ ڈالنے آئیں، کسی نے روکا تو وہ ذمہ دار ہوں گے۔
مسلم لیگ ق نے اپیل کر دی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ(ق) کےسربراہ چوہدری شجاعت حسین نے مشترکہ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکمران جماعت کو ڈی چوک میں اپنے جلسے منسوخ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حالات خطرناک محاذ آرائی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کےسربراہ چوہدری شجاعت حسین نے وفاقی درالحکومت ڈی چوک پر جلسوں کے انعقاد کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن جلسے منسوخ کریں۔